سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز زبردست اضافہ، فی تولہ 9 ہزار 600 روپے مہنگا
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 96 ڈالر بڑھ کر 4 ہزار 131 ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی، جس کے اثرات مقامی صرافہ بازاروں پر بھی پڑے اور فی تولہ سونا 9 ہزار 600 روپے مہنگا ہوگیا۔

ملکی صرافہ بازاروں میں سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بڑے اضافے کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ جمعرات کو فی تولہ سونے کی قیمت میں یک دم 9 ہزار 600 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد فی تولہ سونے کی قیمت 4 لاکھ 35 ہزار 636 روپے تک پہنچ گئی۔ اس سے قبل گزشتہ روز بھی فی تولہ سونے کی قیمت میں 14 ہزار روپے کا نمایاں اضافہ ہوا تھا۔
صرافہ مارکیٹ ذرائع کے مطابق فی 10 گرام سونے کی قیمت بھی 8 ہزار 230 روپے کے اضافے سے 3 لاکھ 73 ہزار 487 روپے کی سطح پر آگئی ہے۔ اس تیزی کی بنیادی وجہ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں قیمتوں کا بڑھنا ہے، جہاں فی اونس سونے کی قیمت 96 ڈالر کے اضافے کے بعد 4 ہزار 131 ڈالر تک جا پہنچی۔
عالمی مارکیٹ میں قیمتی دھاتوں کی مانگ میں اضافے کی وجہ سے سونے اور چاندی کے کاروباری معاہدوں میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس رجحان کا تعلق عالمی معاشی غیر یقینی اور سرمایہ کاروں کے محفوظ اثاثوں کی طرف رجوع سے ہے، جس کا اثر براہ راست مقامی صرافہ بازاروں پر بھی مرتب ہو رہا ہے۔
سونے کے ساتھ ساتھ چاندی کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت 1 ڈالر بڑھ کر 52 ڈالر 85 سینٹس ہوگئی، جس کے نتیجے میں ملکی صرافہ بازاروں میں فی تولہ چاندی 100 روپے کے اضافے سے 5 ہزار 763 روپے اور فی 10 گرام چاندی 85 روپے کے اضافے سے 4 ہزار 940 روپے کی سطح پر آگئی۔
واضح رہے کہ گزشتہ چند روز میں سونے کی قیمت میں مسلسل اضافے نے خریداروں کی قوت خرید کو متاثر کیا ہے، جبکہ شادیوں اور تہواروں کے موسم میں یہ اضافہ عام صارفین کے لیے مزید بوجھ بن سکتا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر قیمتی دھاتوں کی مانگ اور ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ آئندہ دنوں میں بھی سونے کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا رہے گا۔
مقامی صرافہ مارکیٹ کے کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی مارکیٹ میں تیزی کا رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں سونے کی قیمت میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی بتایا کہ فی الحال خریداروں کی جانب سے مانگ محدود ہے اور زیادہ تر کاروبار دکانداروں اور ہول سیلرز کی سطح پر ہو رہا ہے۔










