عالمی بینک کی رپورٹ: پاکستان میں ہر تیسرا گریجویٹ بے روزگار، غربت 29 فیصد تک پہنچ گئی
عالمی بینک اور آئی ایم ایف کی تازہ رپورٹس کے مطابق پاکستان میں بے روزگاری اور غربت میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے، جہاں ہر تیسرا گریجویٹ بے روزگار اور بے روزگار افراد کی مجموعی تعداد 80 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

پاکستان میں بے روزگاری اور غربت کے حوالے سے عالمی بینک کی تازہ رپورٹ نے معاشی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں اس وقت ہر تیسرا گریجویٹ روزگار سے محروم ہے جبکہ بے روزگار افراد کی مجموعی تعداد 80 لاکھ تک جا پہنچی ہے، جن میں 24 سال کی عمر کے نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ عالمی بینک نے یہ انتباہ معاشی استحکام کے دعووں کے باوجود جاری کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2018 کے بعد ملک میں ہر چھٹا شہری بے روزگاری کا شکار ہوا اور غربت میں سات فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے نتیجے میں معیشت کو چار بڑے خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ ملک میں افراط زر 8.2 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے جبکہ چھ فیصد سالانہ نمو کے لیے تیز رفتار اصلاحات اور نجی شعبے کے ذریعے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
آئی ایم ایف نے بھی پاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کمزور ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے اور جاری کھاتے کے خسارے کے مجموعی جی ڈی پی کے ایک فیصد تک پہنچنے کی پیش گوئی کی ہے۔ آئی ایم ایف نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مانیٹری پالیسی مزید سخت کرنے کی سفارش کی، جبکہ عالمی بینک نے توانائی کے شعبے میں سبسڈیز ختم کرنے اور ٹیکس بیس بڑھانے پر زور دیا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق ملک میں غربت کی شرح 29 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور تجارتی خسارے میں مزید اضافے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ غربت کی شرح 2019 کے 22 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 29 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ گزشتہ سال کے آخری سہ ماہی میں معاشی ترقی صرف دو فیصد سالانہ شرح نمو تک محدود رہی۔ عام شہری کی فی کس آمدنی میں محض 1.6 فیصد اضافہ ہوا، جس سے معاشی دباؤ مزید نمایاں ہوتا ہے۔ ایکسپریس کے تجزیہ کار کے مطابق رواں برس اگست میں مہنگائی کی شرح 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق روزگار کے نئے ذرائع دستیاب نہ ہونے اور صنعتی سرگرمیوں میں کمی کے باعث بے روزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت نے ماضی میں وعدہ کی گئی ملازمتیں فراہم نہیں کیں اور اب نجی شعبے سے روزگار کی توقع رکھی جا رہی ہے، تاہم صنعتکاروں کو درپیش سہولتوں کی کمی اور شرح سود میں اضافے نے صورتحال مزید پیچیدہ بنا دی ہے۔
دوسری جانب اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہنرمند تقریباً 19 لاکھ پاکستانی بہتر مستقبل کی تلاش میں ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں، جو معیشت کے لیے ایک اور بڑا چیلنج ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے نجی شعبے کو سہولتیں فراہم کرنا، ہنرمندی کی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ناگزیر ہے، ورنہ غربت اور بے روزگاری کی موجودہ صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔











