عالمی مالیاتی اداروں کی سربراہی پاکستان کو ملنا: سفارتی اعزاز اور معاشی امتحان
بینکاک میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں میں پاکستان کو 2027ء کے لیے دونوں اداروں کے بورڈ آف گورنرز کی سربراہی دیے جانے کا اعلان ہوا، جو تقریباً سات دہائیوں بعد دوبارہ حاصل ہونے والی ذمے داری ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس سفارتی کامیابی کو عوام کی خوشحالی میں کیسے بدلا جائے گا۔

عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے منظرنامے میں پاکستان ایک بار پھر بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنتا نظر آ رہا ہے۔ گزشتہ ہفتوں کے دوران سامنے آنے والی سفارتی پیش رفت، امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے کی کوششیں، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ بڑھتا ہوا دفاعی تعاون اور عالمی مالیاتی اداروں میں پاکستان کو ملنے والی نئی ذمے داریاں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ عالمی سطح پر پاکستان کے کردار میں ایک نئی جہت پیدا ہو رہی ہے۔
اس حوالے سے سب سے نمایاں پیش رفت اکتوبر 2026ء میں سامنے آئی، جب بینکاک میں منعقدہ عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں میں اعلان کیا گیا کہ پاکستان 2027ء کے لیے دونوں اداروں کے بورڈ آف گورنرز کی سربراہی کرے گا۔ یہ ذمے داری پاکستان کو تقریباً سات دہائیوں بعد دوبارہ مل رہی ہے کیونکہ 1953ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ملک ان دونوں اہم عالمی مالیاتی اداروں کے بورڈز کی سربراہی کرے گا۔
یہ یقیناً ایک اہم سفارتی اور ادارہ جاتی اعزاز ہے، تاہم اس کی اصل اہمیت محض عہدے یا منصب میں نہیں بلکہ اس موقع میں پوشیدہ ہے جو پاکستان کو ترقی پذیر ممالک کے معاشی مسائل، قرضوں کے بوجھ، ترقیاتی مالیات اور عالمی اقتصادی نظام میں اصلاحات کے حوالے سے اپنا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لیے مل سکتا ہے۔ یہاں یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ بورڈ آف گورنرز کی سربراہی کا مطلب ان اداروں کی پالیسیوں پر یکطرفہ اختیار حاصل کرنا نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی ادارہ جاتی ذمے داری ہے جس کی کامیابی سفارتی بصیرت، مشاورت اور مؤثر رابطہ کاری پر منحصر ہوگی۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ کی صورت حال نے پاکستان کی سفارت کاری کو نئی اہمیت دے دی ہے، لیکن تمام تعلقات کو بیک وقت آگے بڑھانا آسان نہیں۔ اس کے لیے جذباتی نعروں کے بجائے بالغ نظری، مستقل مزاجی اور قومی مفادات پر مبنی خارجہ پالیسی درکار ہے۔ اس تمام سفارتی سرگرمی کے ساتھ ایک بنیادی سوال مسلسل ذہن میں گردش کرتا ہے: کیا عالمی سطح پر پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا اثر عام پاکستانی کی زندگی پر بھی پڑ رہا ہے؟
یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کسی بھی ملک کی اصل طاقت صرف سفارتی تعلقات، دفاعی معاہدوں یا عالمی فورمز پر حاصل ہونے والے عہدوں سے متعین نہیں ہوتی بلکہ اس کی معیشت، مضبوط اداروں، سیاسی استحکام، تعلیم یافتہ نوجوانوں، جدید ٹیکنالوجی اور عوام کے معیار زندگی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ پاکستان آج بھی قرضوں کے دباؤ، مہنگائی، توانائی کے مسائل، بے روزگاری، برآمدات میں محدود اضافے اور سرمایہ کاری کی کمی جیسے بنیادی چیلنجز سے دوچار ہے، اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعلقات کا بڑا حصہ مالیاتی معاونت اور معاشی اصلاحات کے گرد گھومتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشی پالیسیوں کو اس انداز میں ترتیب دیا جائے کہ بیرونی قرضوں پر انحصار کم ہو، برآمدات میں اضافہ ہو، صنعتی پیداوار کو فروغ ملے اور سرمایہ کاروں کو اعتماد حاصل ہو۔ ٹیکس نظام میں اصلاحات، سرکاری اداروں کی کارکردگی اور حکومتی اخراجات میں نظم و ضبط بھی اسی سلسلے کی بنیادی ضرورتیں ہیں۔ اس کے ساتھ داخلی سیاسی استحکام کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، کیونکہ کوئی ملک اس وقت تک اپنی مکمل صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا جب تک اس کے سیاسی ادارے ایک دوسرے پر اعتماد نہ کریں، آئین کی بالادستی قائم نہ ہو اور پالیسیوں کا تسلسل برقرار نہ رہے۔











