غزہ میں جنگ بندی کے دوران اسرائیلی حملے، حماس کے چار کمانڈر ہلاک ہونے کا دعویٰ
اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں دو فضائی حملوں کے دوران حماس کے چار کمانڈروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں بھرتی شعبے کا سربراہ اور راکٹ یونٹ کے کمانڈر بھی شامل ہیں۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی غزہ میں کیے گئے دو الگ الگ فضائی حملوں میں حماس سے تعلق رکھنے والے چار کمانڈروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ فوجی بیان کے مطابق ان افراد میں تنظیم کے بھرتی شعبے کا سربراہ اور دو اہم عسکری کمانڈر بھی شامل ہیں، تاہم حملوں کے مقام اور نشانہ بنائے گئے افراد کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
اسرائیلی فوج کے مطابق پہلے حملے میں حماس کے بھرتی شعبے کے سربراہ نبیل حمد اور کمانڈر مہند نادر محمود کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ اسی روز کی گئی دو دیگر کارروائیوں میں نخبہ فورس سے تعلق رکھنے والے ایال نائف اور تنظیم کے راکٹ یونٹ کے کمانڈر عرفات کمال کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے ان کارروائیوں کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
دوسری جانب حماس کی طرف سے اسرائیلی فوج کے ان تازہ دعوؤں پر اب تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جس کی وجہ سے ان حملوں میں ہونے والے نقصان یا ہلاکتوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
واضح رہے کہ غزہ میں امریکی ثالثی کے تحت جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیلی فوج کی کارروائیاں جاری ہیں۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ اس کے حملے صرف حماس کے عسکری ارکان اور کمانڈروں کو نشانہ بناتے ہیں، جبکہ خطے میں کشیدگی اور جنگ بندی کے استحکام پر سوالات برقرار ہیں۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں قطر سے ایرانی وفد کی وطن واپسی اور جنگ بندی کے معاہدے کے مسودے کی تیاری جیسی پیش رفت سامنے آئی تھی، جس سے خطے میں ایک بار پھر جنگ بندی کی نئی امید پیدا ہوئی تھی۔ تاہم غزہ میں جاری کارروائیاں اس عمل کو پیچیدہ بناتی نظر آتی ہیں۔










