around.pk
Thursday, 5 November 2026
☀ کراچی 26°☀ لاہور 21°☀ اسلام آباد 17°
کاروبار

وزیراعظم کا چھوٹے برآمد کنندگان کے لیے بڑا فیصلہ: طویل المدتی فنانسنگ کی 80 فیصد برآمدات کی شرط ختم

وزیراعظم شہباز شریف نے چھوٹے کاروباری افراد کو طویل المدتی فنانسنگ کی سہولت دینے کے لیے 80 فیصد برآمدات کی شرط ختم کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ بینکوں کو اسکیم پر عمل درآمد سے انحراف کی اجازت نہ دینے کا واضح پیغام بھی دیا گیا ہے۔

around.pk·3h ago

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کی ترقی کے لیے حکومتی سرپرستی اور سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرتے ہوئے طویل المدتی فنانسنگ کی سہولت سے استفادے کے لیے عائد 80 فیصد برآمدات کی شرط ختم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ فیصلہ برآمدات کرنے والے ایس ایم ایز کو سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزرا رانا تنویر حسین، احسن اقبال، جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، علی پرویز ملک اور اویس احمد خان لغاری کے علاوہ وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، پارلیمانی سیکرٹری برائے تجارت ذوالفقار علی بھٹی، قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کو ایس ایم ایز کے نمائندوں کے ساتھ حالیہ مشاورتی نشستوں اور ان کے مسائل کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ان نشستوں میں ٹیکسوں، ریفنڈز، صوبائی محصولات، ایکریڈیٹیشن، لاجسٹکس، ادائیگیوں اور فنانسنگ سے متعلق امور زیر بحث آئے۔ بریفنگ کے مطابق پاکستان میں برآمدات سے وابستہ ایس ایم ایز کی تعداد تقریباً 17 ہزار ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے یکم نومبر سے ایس ایم ای سیکٹر کے لیے قرضوں تک آسان رسائی کے پورٹل کے اجرا کے بعد 10 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ایکسپورٹ فنانس اسکیم میں ایس ایم ای سیکٹر اور نئے برآمد کنندگان کے لیے 300 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ طویل المدتی ترقیاتی فنانسنگ فیسیلٹی (ایل ٹی جی ایف ایف) کے لیے اس سال 350 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ افریقی ممالک کو پاکستانی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے واضح کیا کہ ایس ایم ایز اور برآمد کنندگان کے لیے رعایتی فنانسنگ اسکیم پر کسی بھی بینک کو عمل درآمد سے انحراف کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ایس ایم ایز کی استعداد کار میں اضافے، مہارتوں کی بہتری اور کاروبار کے فروغ کے لیے حکومت ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی۔

وزیراعظم نے برآمد کنندگان کی سہولت کے لیے ایکریڈیٹیشن کے معیار، لیبارٹریز کی توسیع اور دیگر ضابطہ جاتی طریقہ کار کو بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ برآمد کنندگان کو دہلیز پر سہولیات فراہم کرنے کے لیے جدید لیبارٹریز قائم کی جائیں، تاکہ چھوٹے کاروباری طبقے کو درپیش عملی مشکلات میں کمی آ سکے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں