around.pk
Tuesday, 3 November 2026
☀ کراچی 33°⛅ لاہور 28°☀ اسلام آباد 26°
پاکستان

ٹانک میں پولیو ورکرز اغوا، مہمند میں پولیو ٹیم پر فائرنگ سے دو پولیس اہلکار شہید

ضلع ٹانک میں پولیو ورکرز کے اغوا اور ضلع مہمند میں پولیو مہم کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار شہید ہوگئے، جبکہ ایک دہشت گرد زخمی ہوا اور سرچ آپریشن جاری ہے۔

around.pk·17m ago

خیبر پختونخوا میں پولیو مہم کے دوران پیش آنے والے دو الگ الگ واقعات نے سکیورٹی خدشات کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔ ضلع ٹانک میں نامعلوم افراد نے چار پولیو ورکرز کو اغوا کر لیا، جبکہ ضلع مہمند کی حدود میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں دو اہلکار شہید ہوگئے۔

پولیس ذرائع کے مطابق مہمند کے علاقے تمانزئی میں تھانہ پنڈیالی کی حدود میں پولیو ٹیم پر نامعلوم مسلح افراد نے اچانک فائرنگ کی۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مہمند رضا محمد خان کے مطابق اس حملے میں دو پولیس اہلکار شہید جبکہ ایک اہلکار معمولی زخمی ہوا، اور جوابی کارروائی میں ایک دہشت گرد بھی زخمی ہوا۔

فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہونے والے اہلکاروں کی شناخت ظہور اور عربی کے ناموں سے ہوئی، جبکہ زخمی ہونے والے اہلکار کا نام صابر بتایا گیا ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے تاکہ فرار ہونے والے ملزمان کو گرفتار کیا جا سکے۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ٹانک میں پولیو ورکرز کے اغوا اور مہمند میں دو پولیس اہلکاروں کی شہادت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں واقعات کو قابل مذمت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیو ورکرز بچوں کے محفوظ مستقبل اور صحت مند پاکستان کے لیے قومی فریضہ ادا کر رہے ہیں۔

ادھر گورنر خیبر پختونخوا کی مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ، ریلیف، بحالی و آبادکاری ثمر ہارون بلور نے بھی مہمند میں پولیو مہم کے دوران پولیس اہلکاروں پر فائرنگ اور ٹانک میں پیش آنے والے اغوا کے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

واضح رہے کہ پولیو ورکرز اور ان کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکاروں پر حملے ملک میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کے لیے سنگین چیلنج ہیں۔ حکام نے متعلقہ علاقوں میں سکیورٹی اقدامات مزید سخت کرنے اور کارروائی مکمل کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں