around.pk
Monday, 2 November 2026
☁ کراچی 23°☀ لاہور 19°⛅ اسلام آباد 17°
پاکستان

پاکستان کے علاقائی چیلنجز: افغانستان اور بھارت سے تعلقات کی خرابی اور سفارت کاری کی راہ

پاکستان کو درپیش علاقائی چیلنجز کی ایک بڑی وجہ بھارت اور افغانستان سے تعلقات کی خرابی ہے۔ دہشت گردی، سرحدی تنازعات اور تجارتی رکاوٹوں کے حل کے لیے سفارتی اور معاشی حکمت عملی ناگزیر ہے۔

around.pk·1h ago

پاکستان کو جہاں مختلف نوعیت کے داخلی مسائل کا سامنا ہے، وہیں اس کے علاقائی چیلنجز کی ایک بڑی وجہ ہمسایہ ممالک سے تعلقات کی خرابی ہے۔ ماہرین عام طور پر یہ مانتے ہیں کہ کوئی بھی ریاست داخلی سطح پر مضبوط ہو تو ہی وہ علاقائی اور عالمی چیلنجز کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ تاہم معیشت کی کمزوری، گورننس کے مسائل اور عسکریت پسندی جیسے داخلی عوامل علاقائی مسائل کی حساسیت کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ اس وقت پاکستان کے لیے سب سے نمایاں چیلنج بھارت اور افغانستان سے جڑے ہوئے ہیں۔

افغانستان کی موجودہ حکومت پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے میں وہ کردار ادا نہیں کر رہی جس کی دونوں ملکوں کو ضرورت ہے۔ ایک بڑا مسئلہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حوالے سے افغان حکومت کی عملی حمایت ہے۔ پاکستان کی طرف سے متعدد بار تحفظات اور شواہد پیش کیے جانے کے باوجود افغان حکومت ٹی ٹی پی کو روکنے کے لیے تیار نہیں، حالانکہ اس نے عالمی اور علاقائی سطح پر یقین دہانی کرائی تھی کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور چین کی ثالثی کی کوششیں بھی اب تک کوئی مثبت نتیجہ نہیں دے سکیں۔

بھارت کے ساتھ تعلقات کی خرابی سیکیورٹی، معیشت، پانی اور سفارت کاری سمیت کئی شعبوں میں اثر انداز ہو رہی ہے۔ کشمیر تنازعہ، انڈس واٹرس ٹریٹی کی معطلی، تجارتی بندش اور فوجی محاذ آرائی اس کی واضح مثالیں ہیں۔ اسی طرح بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی مبینہ بھارتی حمایت بھی دہشت گردی کے فروغ کا سبب بن رہی ہے۔ دوسری جانب افغانستان کے ساتھ دہشت گردی، سرحدی جھڑپیں، فضائی حملے، سرحدی بندش، تجارت کے تعطل اور ڈورنڈ لائن کا تنازعہ موجود ہے۔

علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کا بنیادی راستہ افغانستان کے ساتھ سفارتی مذاکرات کی بحالی اور اعتماد سازی ہے۔ افغان حکومت کو یہ باور کروانا ہوگا کہ وہ ٹی ٹی پی کی سرپرستی سے خود کو الگ کرے اور اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ اس کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان دہشت گردی کی معلومات کے تبادلے اور مشترکہ کارروائی کا میکنزم بنایا جانا چاہیے۔ اس عمل میں چین، قطر، ترکیہ اور سعودی عرب جیسے ممالک ثالثی کا مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے فوجی کارروائی کے ساتھ ساتھ سیاسی حکمت عملی بھی ناگزیر ہے۔ صرف طاقت کے استعمال سے دیرپا نتائج حاصل نہیں ہو سکتے، اس لیے دونوں طریقے متوازن انداز میں اپنانے ہوں گے۔ دہشت گردی کا خاتمہ ملکی معیشت کو بھی استحکام دے گا۔ اسی طرح چین کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے کے ساتھ ایران کے ساتھ مل کر بلوچ مسلح گروہوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کی حکمت عملی بھی تیار کرنی ہوگی۔

پاکستان کی اصل ضرورت سفارتی کامیابیوں کو معاشی ترقی سے جوڑنا ہے۔ قومی سلامتی پالیسی میں جیو پالیٹکس اور جیو سیکیورٹی کے ساتھ جیو اکنامکس اور انسانی ترقی کو بھی مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اگر سفارتی سطح پر حاصل ہونے والی پذیرائی کو معاشی ترقی میں تبدیل نہ کیا گیا تو یہ بڑی ناکامی ہوگی۔ آج کے دور میں سفارت کاری ہی ہتھیاروں سے زیادہ مؤثر میدان ہے، اس لیے عالمی اور علاقائی فورمز پر فعال کردار ادا کرتے ہوئے دوست ممالک کی مدد سے اپنے مسائل کے حل کی راہ ہموار کرنی چاہیے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں