around.pk
Tuesday, 3 November 2026
☀ کراچی 23°☀ لاہور 19°☀ اسلام آباد 16°
پاکستان

پنشنرز کے لیے پروف آف لائف کی سہولت، ای او بی آئی میں اضافے کا مطالبہ برقرار

حکومت نے نادرا کے تعاون سے پنشنرز کو گھر بیٹھے مفت پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کی سہولت دی ہے، تاہم ای او بی آئی پنشنرز کم ماہانہ پنشن پر اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

around.pk·2h ago

وفاقی حکومت نے بزرگ پنشنرز کی سہولت کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے نادرا کے تعاون سے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کی آن لائن سہولت متعارف کرائی ہے۔ اس انتظام کے تحت ریٹائرڈ ملازمین گھر بیٹھے بغیر کسی فیس کے اپنا سرٹیفکیٹ برائے حیات حاصل کر سکیں گے، جس سے پنشن کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ یہ اقدام ان بزرگ شہریوں کے لیے خاصی اہمیت کا حامل ہے جنہوں نے سرکاری محکموں میں کئی دہائیاں خدمات انجام دی ہیں اور اب بڑھاپے میں دفتری چکر لگانے سے قاصر ہیں۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق ای او بی آئی ضعیف ملازمین فوائد ایکٹ 1976 کے تحت ہر بیمہ شدہ فرد سے کم از کم اجرت کا چھ فیصد ماہانہ کنٹری بیوشن وصول کیا جاتا ہے۔ حکومت نے اس شرح کا تعین دوبارہ کر دیا ہے، جبکہ چھوٹے اداروں میں کم از کم پانچ افراد کی رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں مرد کے لیے ساٹھ سال اور خاتون کے لیے پچپن سال کی عمر یا کم از کم پندرہ سال تک ماہانہ ادائیگی کا نظام وضع کیا گیا تھا۔

تاہم پنشنرز کا کہنا ہے کہ اس نظام میں کئی مشکلات موجود ہیں۔ چند برس قبل فی فرد ماہانہ تقریباً ساٹھ سے ستر روپے کی کٹوتی اب بڑھا کر روز دو سے اڑھائی ہزار روپے تک پہنچا دی گئی ہے، جو موجودہ مہنگائی کے دور میں برداشت کرنا آسان نہیں۔ ان کا یہ بھی الزام ہے کہ رجسٹریشن کے عمل میں غیر ضروری رکاوٹیں اور خفیہ اخراجات درپیش ہیں، جس سے عام ملازم متاثر ہوتا ہے۔

پنشنرز کی سب سے بڑی شکایت پنشن کی شرح میں واضح فرق ہے۔ گورنمنٹ پنشنر اور ای او بی آئی پنشنر کو الگ الگ سہولتیں دی جا رہی ہیں، جہاں ای او بی آئی فنڈز سے ملنے والی پنشن صرف گیارہ ہزار پانچ سو روپے ماہانہ مقرر ہے۔ بزرگ شہریوں کے مطابق یہ رقم روزانہ تقریباً تین سو تراسی روپے بنتی ہے، جس میں راشن، کرایہ، بجلی، گیس اور ادویات کا خرچہ پورا کرنا ممکن نہیں۔

بڑھتی عمر میں بیماریوں اور مہنگے علاج کے باعث بزرگ پنشنرز کی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔ سرکاری اسپتالوں تک رسائی اور پرائیویٹ ڈاکٹروں کی بھاری فیسوں کے درمیان کم پنشن والے ریٹائرڈ ملازمین اپنی روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ ایسے میں پنشنرز حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ای او بی آئی کے تحت ملنے والی کم پنشن میں اضافہ کیا جائے تاکہ بزرگ شہری باعزت زندگی گزار سکیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ پروف آف لائف کی آن لائن سہولت یقیناً خوش آئند ہے اور اس سے دفتری اوقات کے ضیاع اور سفری اخراجات میں کمی آئے گی، لیکن اصل مسئلہ پنشن کی شرح اور ادائیگی کے نظام کی شفافیت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ای او بی آئی کنٹری بیوشن اور پنشن کے حجم کا از سر نو جائزہ لے تاکہ ریٹائرڈ ملازمین کی اکثریت کو ریلیف فراہم ہو سکے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں