پیٹرولیم لیوی پر حکومت اور جماعت اسلامی کے حتمی مذاکرات 3 نومبر کو ہوں گے
جماعت اسلامی کے قائم مقام امیر لیاقت بلوچ کے مطابق پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے کے حوالے سے حکومت کے ساتھ حتمی مذاکرات 3 نومبر کو وزارت خارجہ میں ہوں گے، ناکامی کی صورت میں ملتان سے لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔

حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے کے معاملے پر حتمی مذاکرات 3 نومبر کو ہوں گے۔ جماعت اسلامی کے قائم مقام امیر لیاقت بلوچ نے بتایا ہے کہ یہ اجلاس صبح گیارہ بجے ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کے دفتر وزارت خارجہ میں منعقد ہوگا، جس میں عوام کو وسیع ریلیف فراہم کرنے اور پیٹرولیم لیوی کے بتدریج خاتمے سے متعلق امور زیر بحث آئیں گے۔
لیاقت بلوچ کے مطابق انہوں نے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان سے ترکی میں ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور انہیں مذاکراتی اجلاس کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے رہنمائی حاصل کی۔ حکومتی مذاکراتی ٹیم میں ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزیر احسن اقبال اور وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ شامل ہوں گے، جبکہ جماعت اسلامی کی نمائندگی قائم مقام امیر لیاقت بلوچ، سید فراست شاہ اور انجینئر نصر اللہ رندھاوا کریں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کا بنیادی مقصد عوام کو ریلیف دلانا ہے۔ ان کے مطابق اگر حکومت مذاکرات کے نتیجے میں عوام کو ریلیف دے دیتی ہے تو اس کا کریڈٹ جماعت اسلامی کو نہ بھی ملے، تب بھی یہ جماعت کے لیے بڑی کامیابی ہوگی۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ مذاکرات میں عوام کے لیے وسیع ریلیف اور پیٹرولیم لیوی کے بتدریج خاتمے کا فیصلہ کرے۔
لیاقت بلوچ نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان ترکی سے وطن واپسی پر ملک بھر کے کارکنان سے آن لائن خطاب کریں گے اور ملتان سے لانگ مارچ شروع کرنے کی تاریخ کا اعلان کریں گے۔
واضح رہے کہ پیٹرولیم لیوی عوام پر ایک بھاری مالی بوجھ ہے اور اس کے خاتمے کا مطالبہ گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق لیوی میں کمی سے ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا امکان ہے، جس کا فائدہ نقل و حمل، زراعت اور عام صارفین تک پہنچ سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 3 نومبر کے اجلاس میں دونوں فریق کسی مشترکہ حل تک پہنچتے ہیں یا معاملہ احتجاج کی صورت اختیار کرتا ہے۔









