around.pk
Thursday, 5 November 2026
☀ کراچی 26°☀ لاہور 21°☀ اسلام آباد 17°
پاکستان

کراچی: بزرگ جوڑے کے قتل، سافٹ ویئر انجینیئر اور ایدھی ہومز ڈکیتی کے مقدمات میں پولیس کی پیش رفت نہ ہو سکی

ضلع وسطی کی انویسٹی گیشن پولیس کینیڈا سے آئے بزرگ جوڑے کے قتل، سافٹ ویئر انجینیئر کے قتل اور ایدھی ہومز پر 65 لاکھ روپے کی ڈکیتی سمیت تین بڑے مقدمات میں اب تک کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں کر سکی، متاثرین کے اہلخانہ انصاف کے منتظر ہیں۔

around.pk·1h ago

کراچی کے ضلع وسطی کی انویسٹی گیشن پولیس تین اہم اور سنگین مقدمات میں اب تک کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہیں کر سکی ہے، جن میں کینیڈا سے آئے ایک بزرگ میاں بیوی کے قتل، ایک سافٹ ویئر انجینیئر کے قتل اور ایک فلاحی ادارے پر لاکھوں روپے کی مسلح ڈکیتی شامل ہیں۔ ان مقدمات کے متاثرین کے اہلخانہ گزشتہ کئی ہفتوں سے انصاف کے انتظار میں ہیں اور پولیس کی جانب سے کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

سرسید تھانے کی حدود میں نارتھ سیکٹر الیون سی ون، بی اماں پارک کے سامنے واقع ایک گھر سے گزشتہ ماہ 14 اکتوبر کو 70 سالہ یامین اور ان کی 65 سالہ اہلیہ نفیس اختر کی خون میں لت پت لاشیں ملی تھیں۔ طبی معائنے میں دونوں کے سر پر چوٹ کے نشانات ملے تھے۔ یہ بزرگ جوڑا کینیڈا سے اپنا مکان فروخت کرنے کے لیے آیا تھا اور گھر میں مرمت و تزئین و آرائش کا کام بھی جاری تھا۔ واقعے کے بعد پولیس نے گھر میں کام کرنے والے افراد سمیت متعدد افراد کے بیانات قلمبند کیے اور مقتول یامین کے بھائی کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر کے انویسٹی گیشن پولیس کو منتقل کیا، تاہم بیس روز گزرنے کے باوجود قاتلوں کا سراغ نہیں مل سکا۔

اسی طرح گزشتہ ماہ 2 اکتوبر کو نارتھ کراچی سیکٹر الیون بی میں فائرنگ کا نشانہ بننے والے سافٹ ویئر انجینیئر صبیح صدیقی کے قاتلوں کا بھی اب تک کوئی سراغ نہیں لگایا جا سکا۔ بتایا گیا ہے کہ مقتول نجی بینک سے سات لاکھ روپے نکلوا کر جا رہا تھا کہ سلیم سینٹر کے قریب مین روڈ پر یوٹرن لیتے ہوئے موٹر سائیکل سوار ملزمان نے اسے گولی مار دی، جس سے وہ شدید زخمی ہوا اور خود گاڑی چلا کر نجی اسپتال پہنچا، جہاں اس نے دم توڑ دیا۔ پولیس کو گاڑی سے نائن ایم ایم پستول، سترہ گولیاں، سات لاکھ روپے نقدی، موبائل فون اور دیگر سامان ملا تھا، اور سرسید پولیس نے مقتول کے بھائی کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔

دوسری جانب ضلع وسطی کی انویسٹی گیشن پولیس سہراب گوٹھ میں واقع ایدھی سینٹر پر گزشتہ 7 اگست کو پیش آنے والی مسلح ڈکیتی کے ملزمان تک بھی تقریباً تین ماہ گزرنے کے باوجود نہیں پہنچ سکی۔ اس واقعے میں مسلح افراد نے فلاحی ادارے پر حملہ کر کے 65 لاکھ روپے چھین کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

ان تینوں مقدمات میں پولیس کی سست روی نے شہریوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ متاثرین کے ورثاء کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی اس امید پر ہیں کہ ملزمان جلد گرفتار ہو کر انہیں انصاف ملے گا۔ ماہرین کے مطابق کراچی جیسے بڑے شہر میں ایسے سنگین مقدمات کی جلد تحقیق اور ملزمان کی گرفتاری عوامی اعتماد کے لیے ناگزیر ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں