around.pk
Saturday, 31 October 2026
☀ کراچی 27°☀ لاہور 21°☀ اسلام آباد 18°
کاروبار

کراچی میں ایکسپورٹ پراسیسنگ زون کی کھیپ میں 68 کروڑ روپے کی غلط بیانی کا انکشاف

ڈائریکٹوریٹ ٹرانزٹ ٹریڈ آپریشنز کراچی اور کلکٹریٹ کسٹمز اپریزمنٹ کے مشترکہ معائنے میں کسٹمز دستاویزات میں غلط بیانی کا انکشاف ہوا، کنٹینر سے مشین پریس پارٹس کے بجائے لوڈ سیلز برآمد ہوئے۔

around.pk·2h ago

کراچی میں کسٹمز حکام نے ایکسپورٹ پراسیسنگ زون کے لیے بھیجی جانے والی ایک کھیپ میں بڑے پیمانے پر غلط بیانی کا انکشاف کیا ہے۔ یہ انکشاف ڈائریکٹوریٹ ٹرانزٹ ٹریڈ آپریشنز کراچی اور کلکٹریٹ کسٹمز اپریزمنٹ کے مشترکہ معائنے کے دوران سامنے آیا، جس میں تقریباً 68 کروڑ 80 لاکھ روپے مالیت کا سامان پکڑا گیا۔

ڈائریکٹر جنرل ٹرانزٹ ٹریڈ عرفان جاوید کے مطابق مذکورہ کنسائنمنٹ پشاور ایکسپورٹ پراسیسنگ زون رسالپور بھیجی جا رہی تھی۔ حکام کو موصولہ خفیہ اطلاع پر کنسائنمنٹ کا معائنہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ محکمہ کسٹمز میں جمع کرائی گئی دستاویزات میں جن اشیا کا ذکر کیا گیا تھا وہ کنٹینر میں موجود نہیں تھیں۔

گڈز ڈیکلریشن میں سامان کو ’مشین پریس پارٹس‘ کے طور پر ظاہر کیا گیا تھا، تاہم معائنے کے دوران کنٹینر سے لوڈ سیلز برآمد ہوئے۔ حکام کے مطابق متعلقہ درآمد کنندہ کو ای پی زیڈ اے نے مصنوعی پھولوں اور پودوں، سوٹ کیسز اور بیگز کی تیاری کا لائسنس جاری کیا تھا، لیکن برآمد ہونے والی اشیا نہ تو ظاہر کردہ تفصیلات سے مطابقت رکھتی ہیں اور نہ ہی درآمد کنندہ کی منظور شدہ پیداواری سرگرمیوں سے ہم آہنگ ہیں۔

ویلیوایشن رولنگ کے مطابق غلط بیان کردہ اشیا کی مالیت کا تخمینہ 68 کروڑ 80 لاکھ روپے لگایا گیا ہے، جن پر واجب الادا ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی رقم 16 کروڑ 50 لاکھ روپے بنتی ہے۔ غلط بیانی کے مرتکب کمپنی کے خلاف کسٹمز ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت قانونی کارروائی کی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں کنٹراوینشن کیس اور مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔

یہ کارروائی اس وقت سامنے آئی ہے جب کسٹمز حکام کی جانب سے درآمدی کھیپوں کی نگرانی اور دستاویزات کی جانچ پڑتال میں سختی کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کی غلط بیانی سے نہ صرف سرکاری محصولات کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ منظم درآمدی کاروبار میں غیر مسابقتی فوائد بھی پیدا ہوتے ہیں، جس سے شفاف تجارت کے لیے کام کرنے والے کاروبار متاثر ہوتے ہیں۔

حکام نے درآمد کنندگان اور کاروباری حلقوں کو یاد دہانی کرائی ہے کہ کسٹمز دستاویزات میں درست معلومات فراہم کرنا قانونی تقاضا ہے۔ کسی بھی قسم کی غلط بیانی یا چھپائی کی صورت میں سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں سامان کی ضبطی، جرمانہ اور مقدمہ شامل ہو سکتا ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں