around.pk
Thursday, 5 November 2026
☀ کراچی 24°☀ لاہور 20°☀ اسلام آباد 17°
پاکستان

کراچی میں ڈکیتی مزاحمت پر زخمی شہری جان کی بازی ہار گیا، سال بھر میں ہلاکتیں 65 تک پہنچ گئیں

گلشن معمار کے علاقے گبول گوٹھ میں 31 اکتوبر کو ڈکیتی کی مزاحمت پر فائرنگ سے زخمی ہونے والے ایک اور شہری نے دوران علاج دم توڑ دیا، جس کے بعد رواں سال ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق شہریوں کی مجموعی تعداد 65 ہو گئی ہے۔

around.pk·1h ago

کراچی کے علاقے گلشن معمار کے نواحی بستی گبول گوٹھ میں ڈکیتی کی مزاحمت پر فائرنگ سے زخمی ہونے والے ایک شہری نے دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا۔ اس واقعے کے بعد رواں سال کے دوران ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جان سے ہاتھ دھونے والے شہریوں کی تعداد 65 تک پہنچ گئی ہے، جو شہر میں بڑھتی ہوئی ڈکیتیوں اور اسلحے کے بے تحاشا استعمال کی سنگین تصویر پیش کرتی ہے۔

پولیس کے مطابق گزشتہ ماہ 31 اکتوبر کو گبول گوٹھ میں لوٹ مار کے دوران مزاحمت پر ڈاکوؤں نے اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں دو سگے بھائیوں عنایت اور جعفر سمیت کل تین افراد زخمی ہو گئے تھے۔ اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) گلشن معمار محمد علی نیازی نے بتایا کہ زخمیوں میں شامل جعفر نے چند روز قبل علاج کے دوران جان کی بازی ہار دی تھی، جبکہ اب مزید ایک زخمی شہری بھی زندہ نہ رہ سکا۔

ایس ایچ او کے مطابق واردات میں ملوث ملزم اورنگزیب کو پولیس نے مقابلے کے دوران زخمی حالت میں گرفتار کر لیا تھا اور وہ اب جیل میں ہے۔ مزید تفتیش کے مطابق ہلاک ہونے والا شہری بھی اسی گبول گوٹھ کا رہائشی تھا، جس سے واقعے کی نوعیت اور مقامی آبادی پر اس کے اثرات مزید واضح ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ کراچی میں ڈکیتی کی وارداتوں کے دوران مزاحمت کرنے والے شہریوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہے۔ ماہرین اور شہری حقوق کے کارکنان بار بار حکومت اور پولیس سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ شہر میں اسٹریٹ کرائم پر قابو پانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں اور عوامی مقامات پر سیکیورٹی کے انتظامات مضبوط کیے جائیں۔

دوسری جانب، شہر میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ڈکیتوں کے خلاف کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ محکمہ پولیس کے مطابق مختلف علاقوں میں ہونے والے مقابلوں میں متعدد ملزمان ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں، تاہم شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے اس کے علاوہ بھی طویل المدتی حکمت عملی کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

گبول گوٹھ کے اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں شہری کب تک ڈکیتی کی مزاحمت کرنے کی قیمت اپنی جان کی صورت میں ادا کرتے رہیں گے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ پولیس گشت میں اضافہ کیا جائے، سی سی ٹی وی کیمرے فعال کیے جائیں اور اسٹریٹ کرائم میں ملوث گروہوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے تاکہ عام شہری کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں