امریکی وسط مدتی انتخابات: ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹس کو واضح برتری
امریکا کی 36 ریاستوں میں گورنرز کے انتخابات سمیت کانگریس کی نشستوں کے لیے پولنگ مکمل ہوگئی، ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹک پارٹی سینیٹ اور ایوان نمائندگان دونوں میں آگے نظر آ رہی ہے۔

امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے لیے مختلف ریاستوں میں پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹک پارٹی کو نمایاں برتری حاصل ہوئی ہے اور اس کے امیدواروں نے کئی اہم نشستیں اپنے نام کر لی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق سینیٹ کی 100 میں سے اب تک جن نشستوں کے نتائج سامنے آئے ہیں، ان میں ڈیموکریٹس 45 نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں جبکہ ری پبلکنز 34 نشستوں پر آگے ہیں۔ اسی طرح 435 نشستوں پر مشتمل ایوان نمائندگان میں ابتدائی طور پر 73 نشستوں پر ڈیموکریٹس اور 34 پر ری پبلکن امیدوار کامیاب قرار پائے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق الاباما، ڈیلاویئر، فلوریڈا، الینوائے، میساچوسٹس، مین، مسی سپی، نیو ہیمپشائر، نیو میکسیکو، ٹیکساس، ساؤتھ ڈکوٹا اور وائیومنگ سمیت متعدد ریاستوں میں پولنگ ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی شروع کر دی گئی ہے۔ کل 36 ریاستوں میں گورنرز کے امیدواروں کے ابتدائی نتائج بھی آنا شروع ہو گئے ہیں۔
ابتدائی نتائج کے مطابق ورجینیا سے ڈیموکریٹک سینیٹر مارک وارنر نے ری پبلکن حریف برٹ میزوساوا کو شکست دے کر ایوانِ بالا میں اپنی چوتھی مدت مکمل کر لی ہے۔ فلوریڈا کے 20ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے ڈیموکریٹک رہنما ڈیبی واسرمین شلٹز نے ری پبلکن برینٹ اینڈرسن کو ہرا کر ایوانِ نمائندگان میں اپنی نشست برقرار رکھی۔
اسی طرح کینٹکی کے تیسرے کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے مورگن میک گاروی، جارجیا کے 13ویں ڈسٹرکٹ سے جیسمین کلارک اور جارجیا کے پانچویں ڈسٹرکٹ سے نیکیما ولیمز نے کامیابی حاصل کی۔ نیکیما ولیمز نے ری پبلکن امیدوار جان سالویسن کو شکست دی۔
فلوریڈا کے دسویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے ڈیموکریٹ الیگزینڈرو فراسٹ بلا مقابلہ دوبارہ منتخب ہوئے جبکہ اسی ریاست کے 23ویں ڈسٹرکٹ سے لوئس فرینکل نے بھی کامیابی حاصل کر کے ایوانِ نمائندگان میں دوبارہ نمائندگی حاصل کر لی۔ واضح رہے کہ یہ ابتدائی نتائج ہیں اور حتمی صورتحال کئی نشستوں پر ووٹوں کی مکمل گنتی کے بعد واضح ہوگی۔
امریکی انتخابات کے یہ نتائج عالمی سیاست اور معیشت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، کیونکہ کانگریس کی تشکیل قانون سازی، تجارتی پالیسیوں اور بین الاقوامی معاملات میں امریکا کے موقف کا تعین کرتی ہے۔ ابتدائی رجحانات کے مطابق ڈیموکریٹس کی کارکردگی مضبوط دکھائی دے رہی ہے، تاہم حتمی نتائج کا انحصار باقی نشستوں کی گنتی پر ہوگا۔










