کراچی میں فلائی اوور کی تعمیر: نشتر روڈ، لو لائن اور گارڈن روڈ پر آج رات سے ٹریفک ڈائیورژن نافذ
کراچی ٹریفک پولیس نے نشتر روڈ، لو لائن، گارڈن روڈ اور آغا خان سوئم روڈ فلائی اوور کی تعمیر کے باعث متبادل راستوں کا اعلان کر دیا ہے۔ لو لائن سگنل، گڈ لک میرج ہال اور جمن شاہ مزار کے مقام پر سڑک آج رات سے مکمل بند رہے گی۔

کراچی ٹریفک پولیس نے شہر کے مصروف علاقوں نشتر روڈ، لو لائن، گارڈن روڈ اور آغا خان سوئم روڈ پر زیر تعمیر فلائی اوور کے سلسلے میں ٹریفک ڈائیورژن کا اعلان کیا ہے۔ محکمے کے مطابق گڈ لک میرج ہال، لو لائن سگنل اور جمن شاہ مزار کے مقام پر سڑک آج رات سے ترقیاتی کام کے باعث ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کر دی جائے گی، جس کے پیش نظر شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ٹریفک پولیس کے مطابق پاک کالونی اور لیاری ایکسپریس وے سے آنے والی گاڑیاں غلام حسین قاسم روڈ (اورنج اسٹریٹ) سے ڈی سلوا اسٹریٹ کے راستے نشتر روڈ پہنچیں گی۔ وہاں سے بائیں جانب مڑ کر جمن شاہ مزار سے یو ٹرن لیتے ہوئے آغا خان سوئم روڈ کے ذریعے صدر کی جانب سفر جاری رکھا جا سکے گا۔ اسی طرح مراد خان چوک سے شالیمار اسٹریٹ کے راستے فوارہ چوک پہنچنے والی گاڑیاں اورنج اسٹریٹ اور لو لائن روڈ استعمال کرتے ہوئے منگھو پیر روڈ اور لیاری ایکسپریس وے کی جانب جا سکیں گی۔
مراد خان چوک سے آنے والی ٹریفک کے لیے گارڈن آفیشل اسٹریٹ کا راستہ مقرر کیا گیا ہے، جس کے ذریعے گاڑیاں جیلانی چوک اور دھوبی گھاٹ کی جانب روانہ ہو سکیں گی۔ ٹریفک پولیس نے بھاری گاڑیوں کے لیے بھی الگ متبادل راستہ متعین کیا ہے، جس کے تحت بڑی گاڑیاں بڑا بورڈ سے ناظم آباد، گلبہار سینٹری مارکیٹ اور لسبیلہ کے راستے گرو مندر اور ایم اے جناح روڈ کی جانب جائیں گی۔
ٹریفک پولیس کے افسران اور اہلکار تمام ڈائیورژن پوائنٹس پر تعینات رہیں گے تاکہ دورانِ سفر شہریوں کو رہنمائی فراہم کی جا سکے اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھی جائے۔ محکمے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سفر کے دوران متبادل راستے اختیار کریں اور ٹریفک پولیس کی ہدایات پر عمل کریں تاکہ تعمیراتی کام کے دوران کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
واضح رہے کہ یہ فلائی اوور منصوبہ شہر قائد کے مصروف ترین تجارتی اور رہائشی علاقوں کو آپس میں جوڑتا ہے، جہاں روزانہ ہزاروں گاڑیاں گزرتی ہیں۔ تعمیراتی کام کے دوران عارضی طور پر ٹریفک کے دباؤ میں اضافہ متوقع ہے، تاہم مکمل ہونے پر یہ منصوبہ ان علاقوں میں سفری سہولت اور ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مصروف اوقات میں اضافی وقت مدنظر رکھتے ہوئے سفر کریں۔










