around.pk
Monday, 2 November 2026
☀ کراچی 32°☀ لاہور 28°☀ اسلام آباد 26°
ٹیکنالوجی

کراچی پولیس کی بڑی کارروائی: آئی ایم ای آئی پیچنگ نیٹ ورک کے 15 ملزمان گرفتار، 435 موبائل فونز برآمد

ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس نے چار تھانوں کی حدود میں بیک وقت کارروائی کرتے ہوئے چوری شدہ اور چھینے گئے موبائل فونز کی آئی ایم ای آئی تبدیل کرنے والے 15 ملزمان کو گرفتار کر لیا، جن سے کروڑوں روپے مالیت کے 435 موبائل فونز اور پیچنگ میں استعمال ہونے والے کمپیوٹرز و لیپ ٹاپس برآمد ہوئے۔

around.pk·1h ago

کراچی میں ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس نے چوری شدہ اور چھینے گئے موبائل فونز کی خرید و فروخت اور آئی ایم ای آئی پیچنگ میں ملوث ایک منظم نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے مجموعی طور پر 15 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ترجمان ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل ڈاکٹر محمد عمران خان کے مطابق یہ کارروائیاں چار تھانوں کی حدود میں بیک وقت کی گئیں، جن کے دوران غیر قانونی طور پر موبائل فونز کی خرید و فروخت میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب ہوا۔

پولیس کے مطابق خواجہ اجمیر نگری، نیو کراچی، تیموریہ اور گلشن اقبال کی حدود میں ہونے والی ان کارروائیوں میں گرفتار ملزمان کے قبضے اور نشاندہی پر 435 موبائل فونز برآمد کیے گئے جن میں قیمتی آئی فونز بھی شامل ہیں۔ کارروائی کے دوران آئی ایم ای آئی پیچنگ میں استعمال ہونے والے 5 کمپیوٹرز اور 7 جدید لیپ ٹاپس بھی قبضے میں لیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق تھانہ خواجہ اجمیر نگری پولیس نے باڑا مارکیٹ میں کارروائی کرتے ہوئے 4 ملزمان کو گرفتار کیا، تھانہ نیو کراچی پولیس نے جیو موبائل مارکیٹ سے 4، تھانہ تیموریہ پولیس نے سرینہ موبائل مارکیٹ سے 3 جبکہ تھانہ گلشن اقبال پولیس نے 4 ملزمان کو حراست میں لیا۔ ترجمان کے مطابق برآمد شدہ موبائل فونز میں 37 آئی ایم ای آئی پیچ شدہ اور 9 چوری و چھینے گئے اینڈرائیڈ موبائل فونز بھی شامل ہیں۔

گرفتار ملزمان مبینہ طور پر جدید سافٹ ویئر اور کمپیوٹرز کے ذریعے موبائل فونز کی ڈیجیٹل شناخت تبدیل کرنے میں ملوث تھے۔ یہ ملزمان نان پی ٹی اے اور اقساط کی عدم ادائیگی پر بلاک ہونے والے موبائل فونز کی بھی غیر قانونی پیچنگ کرتے تھے، جبکہ ڈیجیٹل ٹیمپرنگ کے ذریعے چوری اور چھینے گئے فونز کی اصل شناخت چھپا کر انہیں مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا تھا۔ پولیس اب برآمد شدہ موبائل فونز کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کر کے اصل مالکان کا سراغ لگا رہی ہے، اور قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد فونز ان کے حوالے کیے جائیں گے۔

ایس ایس پی سینٹرل ڈاکٹر محمد عمران خان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس کو چوری اور چھینے جانے والے موبائل فونز کی ٹریسنگ میں مشکلات کا سامنا تھا، اور گرفتار ملزمان کئی ماہ سے موبائل فون پیچنگ اور آئی ایم ای آئی تبدیل کرنے کا کام کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ملزمان کی مختلف موبائل مارکیٹوں میں مرمت کی اپنی دکانیں ہیں جبکہ کچھ ملزمان گھروں سے کام کرتے تھے۔

پولیس افسر نے کہا کہ یہ وائٹ کالر اور ٹیکنیکل نوعیت کا کام ہے جو اسنیچنگ سے زیادہ خطرناک ہے۔ گرفتار ملزمان کی تفصیلات این سی سی آئی کے ساتھ بھی شیئر کی جائیں گی، کیونکہ ملزمان شہر سے باہر بھی موبائل فونز فروخت کرتے تھے۔

یہ پیش رفت پاکستان میں موبائل فون چوری اور غیر قانونی پیچنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر اہم ہے، جہاں بلوکڈ آلات کی ڈیجیٹل شناخت تبدیل کر کے انہیں دوبارہ مارکیٹ میں فروخت کرنے کا نیٹ ورک صارفین کے لیے مالی اور قانونی risques پیدا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کی کارروائیاں نہ صرف چوری کی منڈی کو کمزور کرتی ہیں بلکہ قانونی صارفین کو محفوظ ڈیوائسز کی خریداری کی ترغیب بھی دیتی ہیں۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں