شورکوٹ میں ہزارہ ایکسپریس کی دو بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، تمام مسافر محفوظ
کراچی سے راولپنڈی جانے والی ہزارہ اکسپریس شورکوٹ کینٹ اسٹیشن کے قریب حادثے کا شکار ہوگئی، تاہم ریلوے حکام کے مطابق جانی نقصان نہیں ہوا اور تقریباً تین گھنٹے بعد ٹریک بحال کر کے ٹرین کو روانہ کر دیا گیا۔
یہ خبر اور ہر اہم خبر سب سے پہلے واٹس ایپ پر پائیںaround.pk اردو خبریں چینل — مفت، بغیر سپیم فالو کریں
کراچی سے راولپنڈی جانے والی ہزارہ ایکسپریس بدھ کے روز شورکوٹ میں کینٹ اسٹیشن کے قریب حادثے کا شکار ہوگئی، جس کے نتیجے میں ٹرین کی دو بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔ ریلوے حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حادثے کی وجوہات کا تعین ابھی باقی ہے۔
ریلوے حکام کے مطابق حادثے کے فوری بعد اپ اور ڈاؤن دونوں ٹریک بند کر دیے گئے، جس سے اس اہم ریلوے روٹ پر ریل گاڑیوں کی آمدورفت متاثر ہوئی۔ ٹریک کی بحالی کا کام فوری طور پر شروع کر دیا گیا تاکہ ٹرینوں کی معمول کی آمدورفت کو جلد از جلد بحال کیا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس حادثے میں تمام مسافر محفوظ رہے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ مسافروں کو ٹرین میں ہی محفوظ رکھا گیا جبکہ عملہ بحالی کے کام میں مصروف رہا۔
واقعے کے تقریباً تین گھنٹے بعد بحال شدہ ٹریک پر ہزارہ ایکسپریس کو راولپنڈی کے لیے روانہ کر دیا گیا۔ ریلوے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹریک کی مکمل بحالی کے بعد دیگر ٹرینوں کی آمدورفت بھی معمول کے مطابق بحال کر دی گئی۔
واضح رہے کہ پاکستان ریلوے کو حالیہ برسوں میں متعدد بار پٹری سے اترنے کے واقعات کا سامنا رہا ہے، جن میں کئی مرتبہ جانی و مالی نقصان بھی ہوا۔ ماہرین بار بار پٹریوں کی حالت، پرانی ریل گاڑیوں اور حفاظتی نظام کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے آئے ہیں، جبکہ محکمہ ریلوے کی جانب سے بحالی اور جدید کاری کے منصوبے زیر عمل ہیں۔ شورکوٹ کا یہ واقعہ ایک بار پھر ریلوے کے حفاظتی انتظامات پر سوال اٹھاتا ہے، تاہم اس حادثے میں مسافروں کے محفوظ رہنے کو ایک بڑی خوش آئند بات قرار دیا جا رہا ہے۔
اب تک کی کہانی ریلوے
- تھر کے کوئلے سے صنعتی ترقی: کان کنی کی سالانہ صلاحیت 11.2 ملین ٹن تک بڑھا دی گئی
- لاہور۔نارووال سیکشن پر ٹرینوں کی تاخیر اور خستہ حال بوگیاں، مسافروں کو شدید مشکلات









