بھارت میں طلبہ اور کسانوں کے احتجاج سے مودی حکومت پر دباؤ بڑھ گیا
بھارتی ریاست جھارکھنڈ کے وزیر صحت نے 40 لاکھ طلبہ کے احتجاج کو عوامی بے چینی کا مظہر قرار دیتے ہوئے مودی حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
یہ خبر اور ہر اہم خبر سب سے پہلے واٹس ایپ پر پائیںaround.pk اردو خبریں چینل — مفت، بغیر سپیم فالو کریں
بھارت میں حکومت مخالف مظاہروں اور احتجاجی تحریکوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں طلبہ، کسانوں اور مختلف سماجی طبقات کی جانب سے حکومتی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھائی جا رہی ہے۔ تازہ ترین پیش رفت میں ریاست جھارکھنڈ کے وزیر صحت ڈاکٹر عرفان انصاری نے ملک بھر میں 40 لاکھ طلبہ کے احتجاج کو عوامی بے چینی کی واضح علامت قرار دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ڈاکٹر عرفان انصاری نے کہا کہ موجودہ حکومت کی پالیسیاں کسانوں، نوجوانوں اور اقلیتوں سمیت تمام طبقات کے لیے معاشی اور سماجی استحصال کا سبب بن رہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت عوامی مفادات کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسے فیصلے کر رہی ہے جن سے عوام میں عدم اطمینان بڑھ رہا ہے۔
ماہرین اور مبصرین کے مطابق، بھارت میں بڑھتی ہوئی عوامی اور سیاسی مخالفت حکومت کے جابرانہ رویے اور آمرانہ پالیسیوں کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عوامی grievances کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ بھارت میں گزشتہ کچھ عرصے سے کسانوں کی تنظیمیں، طلبہ یونینیں اور سول سوسائٹی کے گروپس حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔ ان احتجاجات میں معاشی پالیسیوں، روزگار کے مواقع اور سماجی انصاف کے مطالبات اٹھائے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب، حکومت کی جانب سے ان احتجاجات کو معمولی قرار دیا جاتا رہا ہے، تاہم بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی نے حکومت کے لیے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت کو عوامی مطالبات پر سنجیدہ غور کرنا پڑے گا۔
اب تک کی کہانی چین
- پاکستان کے پہلے خلا باز شینژو 24 مشن کے ذریعے چینی خلائی اسٹیشن جائیں گے
- پاکستان کا بیرونی قرضہ ایک دہائی میں تقریباً دگنا، 135 ارب ڈالر تک پہنچ گیا
- چینی الیکٹرک گاڑی نے 503 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا
- خیبر پختونخوا میں معدنیات کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی نئی راہیں کھلنے کا امکان










