مریخ پر آتش فشانی سرگرمیوں کے نئے شواہد: البا مونس میں ہائیڈروجن کلورائیڈ گیس کی نشاندہی
یورپی خلائی ادارے کے ایکسپو مارس ٹریس گیس آربیٹر کے ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ مریخ کے بڑے آتش فشانی علاقے البا مونس میں ہائیڈروجن کلورائیڈ گیس کی غیر معمولی مقدار موجود ہے، جو سیارے کے اندرونی حصے میں اب بھی حرارت اور آتش فشانی سرگرمیوں کا امکان ظاہر کرتی ہے۔
یہ خبر اور ہر اہم خبر سب سے پہلے واٹس ایپ پر پائیںaround.pk اردو خبریں چینل — مفت، بغیر سپیم فالو کریں
مریخ کے بارے میں ایک نئی سائنسی تحقیق سے ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ یہ سیارہ ارضیاتی اعتبار سے اتنا مردہ یا غیر فعال نہیں جتنا پہلے سمجھا جاتا تھا۔ محققین نے مریخ کے سب سے بڑے آتش فشانی علاقے البا مونس کے قریب سطح کی دراڑوں کے اوپر ہائیڈروجن کلورائیڈ گیس کی غیر معمولی مقدار کی نشاندہی کی ہے۔
یہ دریافت بتاتی ہے کہ مریخ کے اندرونی حصے سے نکلنے والی گیسیں سطح کی دراڑوں کے ذریعے فضا میں خارج ہو رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ گیس زیرِ زمین موجود گرم پگھلے ہوئے مادے یعنی میگما سے خارج ہو سکتی ہے، اور اگر اس کی تصدیق ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مریخ پر اب بھی ایسے آتش فشانی نظام موجود ہیں جو گیسوں کو سطح تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یورپی خلائی ادارے کے ایکسپو مارس ٹریس گیس آربیٹر نے پہلی بار سنہ 2021 میں مریخ کی فضا میں ہائیڈروجن کلورائیڈ گیس کی موجودگی کا پتہ لگایا تھا۔ زمین پر یہ گیس عموماً آتش فشانی دہانوں اور دراڑوں سے خارج ہوتی ہے، جس سے امکان پیدا ہوتا ہے کہ مریخ پر بھی اسی نوعیت کے قدرتی عمل جاری ہو سکتے ہیں۔
پولش اکیڈمی آف سائنسز کے اسپیس ریسرچ سینٹر کے پروفیسر اور اس تحقیق کے شریک سربراہ ڈینیئل میج کے مطابق نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ مریخ نے اپنے اندرونی حصے میں اتنی حرارت برقرار رکھی ہے جو حالیہ ماضی تک آتش فشانی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے کافی تھی، اور ممکن ہے کہ یہ سرگرمیاں اب بھی جاری ہوں۔
یہ تحقیق بین الاقوامی تحقیقی ٹیم کی جانب سے الیگزینڈر ٹروخیموفسکی کی سربراہی میں کی گئی اور سائنسی جرنل سائنس ایڈوانسز میں شائع ہوئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ شواہد مریخ کی ارضیاتی تاریخ اور مستقبل کی خلائی مہمات کے لیے اہم معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ مریخ پر آتش فشانی سرگرمیوں کی موجودگی طویل عرصے سے سائنسی بحث کا موضوع رہی ہے۔ اس نئی تحقیق سے یہ بحث ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے اور سیارے کے اندرونی حصے کی ساخت کو سمجھنے کے لیے مزید مشاہدات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
اب تک کی کہانی یورپ
- برطانیہ کے ہیتھرو اور برمنگھم ایئرپورٹس کو بم دھمکیاں، متعدد پروازیں متاثر
- یورپ میں مسافر طیاروں کو بم کی دھمکیاں، کئی پروازیں متبادل ہوائی اڈوں پر اتاری گئیں
- جی ایس پی پلس اسٹیٹس کو خطرات لاحق، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں باعث تشویش
- یورپ میں چار مسافر طیاروں کو بم کی دھمکیاں، ہنگامی لینڈنگ ناگزیر











