مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ: نئے اسلامی ممالک کی شمولیت پر غور، فیصلہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کریں گے
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں مزید اسلامی ممالک کی شمولیت کی گنجائش ہے، تاہم کسی بھی رکن ملک کا فیصلہ تینوں موجودہ ممالک باہمی مشاورت سے کریں گے۔
25 ستمبر 2026, 12:45 صبح
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں مزید اسلامی ممالک کو شامل کیے جانے کا امکان موجود ہے، تاہم کسی بھی ملک کی شمولیت کا فیصلہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی باہمی مشاورت سے ہوگا۔ اس وقت معاہدہ انہی تین ممالک کے درمیان ہے۔
ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہ آیا ایران معاہدے کا حصہ بن سکتا ہے، خواجہ آصف نے کہا کہ ایران خطے کا ایک اہم ملک ہے اور اس دفاعی معاہدے میں کسی بھی ملک کے خلاف کوئی ارادہ نہیں ہے۔
خواجہ آصف کے مطابق، جو بھی ملک اس معاہدے میں شامل ہوگا اس کا مقصد خطے میں امن کے قیام میں کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس معاہدے کے تحت ایک سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا جو امکان ہے کہ اکتوبر کے اوائل میں فعال ہو جائے گا اور اس کے انتظامی و بیوروکریٹک ڈھانچے کو مکمل طور پر فعال بنانے میں دو سے چار ماہ لگ سکتے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ کئی اسلامی ممالک اس معاہدے کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتے ہیں، تاہم کسی بھی ملک کی رکنیت کے بارے میں فیصلہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ باہمی مشاورت سے ہی کریں گے۔
اسی زمرے سے
افغانستان پاکستان سے جنگ نہ کرے، اسے شکست ہوگی: ضیاء اللہ لانگو
6 گھنٹے قبل
کے ایم سی و ٹاؤنز کے ریٹائرڈ ملازمین واجبات سے محروم، ایم کیو ایم کی تشویش
7 گھنٹے قبل
پاک فوج کی افغانستان میں 10 مقامات پر جوابی کارروائی، دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ
19 گھنٹے قبل
سندھ میں مفرور و اشتہاری ملزمان کی تعداد 77 ہزار سے تجاوز کر گئی
19 گھنٹے قبل