around.pk
Wednesday, 4 November 2026
☀ کراچی 24°☀ لاہور 20°☀ اسلام آباد 19°
ٹیکنالوجی

امریکی خلا بازوں نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے ووٹ کاسٹ کیا

ناسا کے تین امریکی خلا بازوں نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود رہتے ہوئے الیکٹرانک بیلٹ کے ذریعے امریکی وسط مدتی انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا، اور یہ سہولت 1997 سے فراہم کی جا رہی ہے۔

around.pk·9m ago

امریکا میں حالیہ وسط مدتی انتخابات کے دوران جہاں لاکھوں شہریوں نے پولنگ اسٹیشنز پر جا کر ووٹ ڈالے، وہیں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر تعینات تین امریکی خلا بازوں نے بھی زمین سے سینکڑوں میل بلندی سے اپنا حق رائے دہی ادا کیا۔ ناسا کے خلا باز انیل مینن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ ایک ویڈیو میں اس عمل کی تفصیلات بتائیں۔

انیل مینن کے مطابق خلائی اسٹیشن میں موجود تمام تین امریکی خلا بازوں کو مدار میں رہتے ہوئے ووٹ ڈالنے کا موقع ملا۔ انہوں نے الیکٹرانک بیلٹ بھری اور اسے محفوظ طریقے سے امریکی انتخابی حکام تک پہنچایا۔ ویڈیو میں انہوں نے خلائی اسٹیشن کے رہائشی حصے کے ایک چھوٹے سے گوشے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خلا میں رہتے ہوئے بھی ووٹ ڈالنا ممکن ہے۔

اس عمل میں انیل مینن کے ہمراہ خلا باز جیسیکا واٹکنز اور لیوک ڈیلینی بھی شامل تھے۔ ووٹنگ کے لیے ناسا کے مواصلاتی نیٹ ورک کو استعمال کیا گیا، جس کے ذریعے مکمل شدہ بیلٹ پہلے زمینی مراکز تک منتقل کیے گئے اور بعد ازاں متعلقہ کاؤنٹی کے انتخابی دفاتر کو بھیجے گئے۔

ناسا کے مطابق ووٹوں کی رازداری اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے انکرپشن ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے۔ اس انتظام کے تحت مکمل شدہ بیلٹ تک صرف متعلقہ خلا باز اور مجاز انتخابی حکام ہی رسائی حاصل کر سکتے ہیں، جس سے ووٹ کی خفیہ حیثیت برقرار رہتی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی خلا بازوں کو خلا سے ووٹ ڈالنے کی سہولت 1997 میں متعارف کرائی گئی تھی، جب امریکی ریاست ٹیکساس نے ناسا کے عملے کو خلائی مدار سے ووٹ ڈالنے کی اجازت دینے کے لیے قانون سازی کی تھی۔ اس وقت سے اب تک متعدد خلا باز اس سہولت سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔

یہ واقعہ اس حقیقت کی جانب بھی اشارہ کرتا ہے کہ جدید مواصلاتی اور انکرپشن ٹیکنالوجی کس طرح دور دراز اور غیر معمولی حالات میں بھی جمہوری عمل میں شرکت کو ممکن بناتی ہے۔ ناسا کے اس نظام نے خلا میں موجود عملے کے لیے زمینی انتخابی عمل سے جڑے رہنے کا ایک محفوظ اور قابل اعتماد راستہ فراہم کیا ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں