امریکی مڈٹرم الیکشن: ایران پالیسی اور عالمی سیاست پر اثرات
امریکا کے مڈٹرم انتخابات نہ صرف ملکی سیاست بلکہ ایران کے ساتھ جنگ یا ڈیل جیسے خارجہ پالیسی فیصلوں پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں، جبکہ امریکی ووٹروں کی ترجیحات میں مہنگائی اور روزگار سرفہرست ہیں۔

امریکا میں رواں سال ہونے والے مڈٹرم انتخابات کو صدر ٹرمپ کی مقبولیت کا پیمانہ قرار دیا جا رہا ہے، اور سیاسی مبصرین کے مطابق یہ انتخابات اس بات کا تعین کر سکتے ہیں کہ واشنگٹن ایران کے معاملے پر جنگ کا راستہ اختیار کرتا ہے یا کسی سفارتی ڈیل تک پہنچتا ہے۔ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث امریکی معیشت کو بھی چیلنجز کا سامنا ہے، جہاں مہنگائی میں اضافہ اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نمایاں ہے۔
امریکی رائے عامہ کے جائزوں اور سیاسی تجزیوں کے مطابق ووٹروں کی اولین ترجیحات میں خارجہ پالیسی شامل نہیں بلکہ مہنگائی، رہائش کے بڑھتے اخراجات اور روزگار جیسے معاشی مسائل سرفہرست ہیں۔ اسی لیے صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی، بشمول پاکستان سمیت دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات، پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
امریکی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیں تو 1934ء سے اب تک صرف تین مواقع پر حکمران جماعت مڈٹرم انتخابات میں کامیاب ہوئی ہے۔ 1934ء میں صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ کی ڈیموکریٹک پارٹی، 1998ء میں صدر بل کلنٹن کی ڈیموکریٹک پارٹی اور 2002ء میں صدر جارج ڈبلیو بش کی ریپبلکن پارٹی نے کامیابی حاصل کی۔ عام طور پر مڈٹرم انتخابات میں حکمران پارٹی کو نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان انتخابات میں ایوان نمائندگان کے تمام 435 ارکان ہر دو سال بعد منتخب کیے جاتے ہیں، جبکہ سینیٹ کے ارکان چھ سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں اور ہر دو سال بعد ایک تہائی ارکان کی مدت مکمل ہونے پر نئے ارکان منتخب کیے جاتے ہیں۔ اگر ریپبلکن پارٹی کانگریس پر کنٹرول برقرار رکھنے یا حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو صدر ٹرمپ کے لیے ایران کے ساتھ ڈیل کرنا آسان ہو سکتا ہے، کیونکہ انہیں ادارہ جاتی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور دفاعی اخراجات کی منظوری میں بھی سہولت ملے گی۔
صدر ٹرمپ متعدد بار اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ مزید جنگ کے خواہاں نہیں، کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اس سے ایندھن کی قیمتیں مزید بڑھیں گی اور عالمی تجارت میں رکاوٹیں پیدا ہوں گی، جو امریکی ووٹروں کے لیے مثبت پیغام نہیں ہوگا۔ تاہم اب تک ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی تضادات سے بھری رہی ہے، جہاں سفارتی چینل کھلے ہونے کے باوجود فوجی دباؤ بھی جاری رکھا گیا، اس لیے مزید امریکی حملوں کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان کے لیے اس حوالے سے کانگریس پر کسی بھی جماعت کا کنٹرول فیصلہ کن نہیں، بلکہ اہم یہ ہے کہ انتخابات کے بعد واشنگٹن ایران کے ساتھ تصادم کا راستہ اختیار کرتا ہے یا سفارت کاری کی طرف مڑتا ہے۔ اس فیصلے کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ خطے کی مجموعی صورتحال اور عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔











