around.pk
Sunday, 1 November 2026
☀ کراچی 24°☀ لاہور 20°☀ اسلام آباد 17°
دنیا

امریکی مڈٹرم انتخابات 2026: مسلم ووٹرز کا بڑھتا ہوا سیاسی کردار

امریکا میں 3 نومبر 2026 کو ہونے والے مڈٹرم انتخابات میں کانگریس کی تمام 435 نشستیں اور سینیٹ کی ایک تہائی نشستیں داؤ پر لگی ہیں۔ تقریباً 55 لاکھ پر مشتمل امریکی مسلم کمیونٹی، جو اب 26 ریاستوں میں 255 منتخب عہدوں پر موجود ہے، اس انتخاب میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

around.pk·7m ago

امریکا میں ہر چار سال بعد صدارتی انتخابات ہوتے ہیں، جبکہ ان کے درمیانی عرصے میں ہونے والے وفاقی انتخابات کو مڈٹرم انتخابات کہا جاتا ہے۔ اس بار یہ انتخابات 3 نومبر 2026 کو منعقد ہو رہے ہیں، جن میں صدر کا انتخاب نہیں ہوگا بلکہ ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں، سینیٹ کی تقریباً ایک تہائی نشستوں کے ساتھ ساتھ کئی ریاستوں میں گورنروں، ریاستی قانون ساز اداروں اور مقامی عہدوں کے لیے مقابلے ہوں گے۔

مڈٹرم انتخابات کی اہمیت اس حقیقت میں مضمر ہے کہ امریکی کانگریس وفاقی بجٹ، ٹیکس، امیگریشن، صحت، تعلیم، دفاع، خارجہ امداد اور حکومتی نگرانی جیسے کلیدی معاملات پر قانون سازی کرتی ہے۔ اگر صدر کی جماعت کانگریس میں اپنی اکثریت کھو دے تو صدر کے لیے اپنے قانونی و سیاسی ایجنڈے پر عمل درآمد مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی نظریں ان انتخابات پر مرکوز ہیں۔

امریکی مسلمان ووٹرز کے لیے بھی یہ انتخابات یکساں اہمیت کے حامل ہیں۔ شہری حقوق، مذہبی آزادی، نفرت انگیز جرائم، امیگریشن پالیسی، فلسطین و اسرائیل سے متعلق امریکی موقف، مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات اور روزمرہ معاشی مسائل انتخابی بحث کا حصہ ہیں۔ تاہم تمام امریکی مسلمان ہر معاملے پر یکساں رائے نہیں رکھتے، کیونکہ ان کا نسلی پس منظر، معاشی مفادات اور سیاسی ترجیحات مختلف ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 55 لاکھ ہے اور مساجد کی تعداد تین ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ کمیونٹی پاکستان، بنگلہ دیش، عالمِ عرب، افریقہ، ایران اور ترکی سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاوہ سیاہ فام امریکی مسلمانوں پر بھی مشتمل ہے۔ نئی نسل تعلیم، کاروبار، طب، قانون، صحافت اور سیاست میں سرگرم ہے۔ البتہ آبادی کا یہ حجم یہ نہیں بتاتا کہ تمام افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں، کیونکہ بچے، غیر شہری رہائشی اور غیر رجسٹرڈ ووٹرز اس شمار سے باہر ہیں۔

سیاسی نمائندگی کے حوالے سے صورتِ حال ابھی محدود ہے۔ فی الوقت امریکی سینیٹ اور کانگریس میں مسلمانوں کی نمائندگی صرف تین افراد پر مشتمل ہے: انڈیانا سے آندرے کارسن، مینیسوٹا سے الہان عمر اور مشی گن سے رشیدہ طلیب، جن کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے۔ اس کے برعکس مقامی سطح پر پیش رفت زیادہ واضح ہے۔ اگست 2026 کی ایک ڈائریکٹری کے مطابق 26 ریاستوں میں 255 مسلمان منتخب عہدوں پر فائز ہیں، جن میں 98 سٹی کونسل ممبران، 63 تعلیمی عہدیداران، 46 ریاستی اسمبلی ارکان، 11 میئر اور 18 منتخب جج شامل ہیں۔

کیلیفورنیا، نیویارک، ورجینیا، ٹیکساس، مشی گن، نیو جرسی، فلوریڈا، الینوائے، میری لینڈ، جارجیا اور اوہائیو جیسی ریاستوں میں مسلم آبادی زیادہ ہے، اور یہی ریاستیں انتخابی لحاظ سے فیصلہ کن سمجھی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان علاقوں میں مسلم ووٹرز کی شرکت کانگریس کی آئندہ سیاسی سمت کے ساتھ ساتھ ریاستی اور مقامی حکومتوں کے نتائج پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔

دوسری جانب 3 نومبر کے لیے اندازے لگائے جا رہے ہیں کہ ڈیموکریٹک پارٹی کو فوقیت حاصل ہو سکتی ہے، اگرچہ حتمی نتیجہ ووٹرز کے فیصلے پر منحصر ہوگا۔ واضح رہے کہ کسی مسلمان رکن کی موجودگی کا مطلب یہ نہیں کہ وہ صرف مسلمانوں کے مفادات کی نمائندگی کرتا ہے، بلکہ وہ اپنے پورے انتخابی حلقے کے ووٹرز کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے۔ اسی لیے مسلمانوں کی سیاسی پیش رفت کا اصل پیمانہ واشنگٹن کے بجائے ریاستی اسمبلیوں، شہروں، کاؤنٹیوں اور تعلیمی اداروں کی منتخب قیادت میں جھلکتا ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں