جی 20 اجلاس میں روسی وزیر خارجہ کی موجودگی پر احتجاج، گروپ فوٹو منسوخ
امریکی شہر اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ اجلاس کے دوران روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کی موجودگی پر یورپی وفود نے احتجاجاً مشترکہ تصویر بنوانے سے انکار کر دیا، جس کے بعد روایتی فیملی فوٹو منسوخ کر دی گئی۔

امریکی شہر اٹلانٹا میں منعقدہ جی 20 وزرائے خارجہ اجلاس کے دوران روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کی موجودگی پر یورپی ممالک کے سفارت کاروں نے احتجاجاً اجتماعی تصویر بنوانے سے انکار کر دیا، جس کے نتیجے میں میزبان ملک نے اجلاس کی روایتی فیملی فوٹو منسوخ کر دی۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق دو حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جمعے کے روز ہونے والی مشترکہ تصویر اس وقت منسوخ کی گئی جب متعدد وفود نے روسی وزیر خارجہ کے ساتھ ایک ہی فریم میں کھڑے ہونے سے واضح انکار کر دیا۔
اجلاس کی میزبانی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کر رہے ہیں۔ اس موقع پر برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے اپنے روسی ہم منصب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین جنگ میں جارح کون ہے، یہ سب جانتے ہیں۔ انہوں نے روس پر الزام عائد کیا کہ اس کی جنگ کے نتیجے میں یوکرین میں بے گناہ شہری ہلاک ہو رہے ہیں جبکہ عالمی سطح پر توانائی، رسد اور خوراک کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے۔
امریکی عہدیدار کے مطابق اجتماعی تصویر منسوخ کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا گیا جب یہ واضح ہو گیا کہ بعض ممالک کے وفود مشترکہ تصویر میں شرکت کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یوں اجلاس کے انعقاد کے باوجود سفارتی سطح پر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے اور ایک معمول کی رسمی کارروائی سیاسی پیغام میں تبدیل ہو گئی۔
دوسری جانب یوکرین جنگ کے معاملے پر امریکا اور یورپی اتحادیوں کے درمیان اختلافات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس پر بعض پابندیاں معطل کرنے اور روسی ڈیزل کی درآمد کی اجازت دینے کے فیصلے پر یوکرین اور یورپی ممالک نے تنقید کی ہے۔ یوکرینی صدر زیلنسکی نے امریکی فیصلے کو روسی صدر پیوٹن کے لیے تحفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے جنگ ختم ہونے کے بجائے مزید طول پکڑ سکتی ہے۔
واضح رہے کہ روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر مکمل فوجی حملہ کیا تھا اور اب بھی یوکرین کے تقریباً پانچویں حصے پر اس کا کنٹرول ہے۔ جی 20 اجلاس میں پیش آیا یہ واقعہ اس بات کا عکاس ہے کہ یوکرین تنازعے پر عالمی برادری کی صفیں ابھی تک متحد نہیں ہو سکیں اور سفارتی محاذ پر کشیدگی برقرار ہے۔








