ناسا کی سوئفٹ خلائی دوربین 22 سال کے مشن کے بعد فضا میں داخل ہو کر تباہ
ناسا کی سوئفٹ دوربین نے 22 سال تک کائنات کے پراسرار دھماکوں کا مشاہدہ کیا، اب یہ زمین کی فضا میں داخل ہو کر جل گئی ہے۔

امریکی خلائی ادارے ناسا کی مشہور سوئفٹ خلائی دوربین نے کائنات کے پراسرار مظاہر کا 22 سال تک مشاہدہ کرنے کے بعد اپنا سائنسی سفر مکمل کر لیا ہے۔ ناسا کے مطابق یہ سیٹلائٹ 4 نومبر کو زمین کے مدار سے نکل کر فضا میں داخل ہوئی اور انڈونیشیا کے علاقے کے اوپر جل کر تباہ ہو گئی۔ امریکی خلائی فورس نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔
تقریباً 1452 کلو گرام وزنی یہ دوربین امریکی مشرقی وقت کے مطابق صبح 7 بج کر 39 منٹ پر فضا میں داخل ہوئی، جب اس کی رفتار آواز کی رفتار سے تقریباً 22 گنا زیادہ تھی۔ شدید رگڑ اور حرارت کے باعث اس کا بیشتر حصہ جل کر ختم ہو گیا، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ کچھ چھوٹے ٹکڑے زمین تک پہنچ سکتے ہیں۔ ناسا کے مطابق کسی جانی نقصان یا کسی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
امریکی خلائی فورس کا پہلے سے اندازہ تھا کہ اس ملبے سے کسی آبادی کو نقصان پہنچنے کا امکان نہایت کم ہے۔ ادارے کے مطابق زمین پر کسی شخص کو نقصان پہنچنے کا خطرہ تقریباً 2100 میں سے ایک تھا۔ ماہرین نے بھی واضح کیا تھا کہ فضا میں داخل ہونے سے قبل صرف چند چھوٹے اور جلے ہوئے ٹکڑوں کے زمین تک پہنچنے کی توقع ہے، جن سے دوربین کی اصل شکل پہچاننا ممکن نہیں ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حجم کے سیٹلائٹس کا فضا میں دوبارہ داخل ہونا معمول کا عمل ہے اور اب تک خلائی ملبے کے باعث کسی شخص کی موت واقع نہیں ہوئی۔
تقریباً 50 کروڑ ڈالر کی لاگت سے تیار کی گئی سوئفٹ دوربین کا بنیادی مقصد کائنات میں پیش آنے والے انتہائی طاقتور دھماکوں کا مطالعہ کرنا تھا، جنہیں ’گاما رے برسٹس‘ کہا جاتا ہے اور جو کائنات میں توانائی کے شدید ترین اخراجات میں شمار ہوتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے دوربین میں تین مختلف اقسام کے آلات نصب کیے گئے تھے جو مختلف طولِ موج پر خلائی واقعات کا مشاہدہ کرتے تھے۔
2004 میں خلا میں بھیجے جانے کے بعد سوئفٹ نے گاما رے دھماکوں کے علاوہ سیکڑوں سپرنووا، بلیک ہولز کی جانب سے ستاروں کو نگلنے کے واقعات، ستاروں سے خارج ہونے والی ایکس رے شعاعوں، شہابیوں اور دمدار ستاروں کا بھی مطالعہ کیا۔ ناسا کے مطابق اس دوربین کے مشاہدات کی بنیاد پر اب تک تقریباً سات ہزار سائنسی تحقیقی مقالے شائع ہو چکے ہیں۔
سوئفٹ کو ابتدا میں صرف دو سال کے لیے تیار کیا گیا تھا، لیکن اس نے مقررہ مدت سے کہیں زیادہ عرصے تک خدمات انجام دیں۔ اس میں اپنا مدار تبدیل کرنے کے لیے کوئی انجن یا نظام موجود نہیں تھا، جس کے باعث وقت گزرنے کے ساتھ اس کا مدار غیر مستحکم ہوتا چلا گیا۔ ناسا نے اسے مزید کئی برس فعال رکھنے کے لیے رواں سال جولائی میں ایک ریسکیو مشن شروع کیا تھا، جس کے تحت ایریزونا کی کمپنی کیٹالسٹ کے تعاون سے ’لنک‘ نامی خلائی جہاز تیار کیا گیا۔ تاہم یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی اور اگست کے وسط تک اسے ترک کر دیا گیا۔ دوربین نے 20 اکتوبر کو اپنا سائنسی مشن ختم کیا اور بالآخر 4 نومبر کو فضا میں داخل ہو کر اپنے 22 سالہ خلائی سفر کا اختتام کیا۔











