وزیرِاعظم کا پولیو کے خاتمے کا عزم، چاروں صوبوں میں مشترکہ حکمتِ عملی بنانے کی ہدایت
وزیرِاعظم شہباز شریف نے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے ایک ہفتے میں چاروں صوبوں سے مشاورت کے بعد مربوط لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ رواں سال ملک میں پولیو کیسز کی تعداد 9 تک پہنچ گئی ہے۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پولیو سے پاک پاکستان کا حصول ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم حکومت کا عزم اور حوصلہ اس چیلنج سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی مشاورت اور مشترکہ حکمتِ عملی کے ذریعے ملک سے پولیو کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔ یہ بات انہوں نے انسدادِ پولیو کے حوالے سے ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔
اجلاس میں وزیرِاعظم نے ملک بھر میں انسدادِ پولیو مہمات کی کامیاب انعقاد پر فرنٹ لائن پولیو ورکرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی محنت اور خدمات کو سراہا۔ انہوں نے زور دیا کہ مہمات کے دوران ورکرز کی مسلسل رسائی اور ان کی سکیورٹی حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور ملک بھر میں معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج کو مزید بہتر بنایا جائے۔ انہوں نے خصوصی طور پر پولیو سے متاثرہ اور اس حوالے سے تشویش کے حامل علاقوں میں حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج بڑھانے کی ہدایت کی۔
وزیرِاعظم نے سکیورٹی کے حوالے سے حساس اور مشکل علاقوں میں انسدادِ پولیو مہمات کی رسائی میں نمایاں بہتری کو قابلِ تحسین قرار دیا، لیکن ملک میں سامنے آنے والے حالیہ پولیو کیسز پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کے خلاف پہلے سے بہتر حکمتِ عملی اور بھرپور جدوجہد کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ خیبر ضلع سے پولیو کا نیا کیس سامنے آنے کے بعد رواں سال ملک میں کیسز کی تعداد 9 ہو گئی ہے۔ خیبر پختونخوا میں خیبر سے تین، بنوں سے تین اور شمالی وزیرستان سے ایک کیس رپورٹ ہوا، جبکہ خیبر کے تمام کیسز افغانستان کے پولیو وائرس سے متعلق ہیں۔ سندھ میں کراچی شرقی اور سجاول سے ایک ایک کیس سامنے آیا۔ حکام کے مطابق افغانستان سے آمد و رفت پاکستان میں پولیو کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ ہے۔
بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پنجاب میں فروری 2025 کے بعد پولیو کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا، جبکہ بلوچستان میں 2025 اور 2026 میں بھی کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان پہلے ہی پولیو سے پاک ہیں، اور رواں سال سندھ کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مقدار میں کمی دیکھی گئی ہے۔
وزیرِاعظم نے وفاقی وزیر، وزیرِ مملکت، سیکرٹریِ قومی صحت اور انسدادِ پولیو ٹیم کے اراکین کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر چاروں صوبوں کا دورہ کریں اور وزرائے اعلیٰ اور چیف سیکرٹریز سے ملاقاتیں کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے کے اندر چاروں صوبوں سے مشاورت کے بعد انسدادِ پولیو کا مربوط لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ اجلاس میں نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزراء اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔











