around.pk
Wednesday, 4 November 2026
☀ کراچی 33°☀ لاہور 28°☀ اسلام آباد 25°
کاروبار

کام کی جگہوں پر تحفظ کے قوانین پر عمل درآمد اصل چیلنج ہے، سعید غنی

سندھ کے وزیر محنت سعید غنی نے کہا ہے کہ محفوظ ماحولِ کار کے لیے صرف قانون سازی کافی نہیں بلکہ لیبر انسپیکشن کے نظام کو مضبوط بنانا اور متعلقہ اداروں کی صلاحیت بڑھانا اصل چیلنج ہے۔

around.pk·3m ago

سندھ کے صوبائی وزیر محنت و افرادی قوت سعید غنی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور کام کی جگہوں پر محفوظ ماحول کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے، تاہم محض قانون سازی سے مقصد حاصل نہیں ہو گا بلکہ اصل چیلنج ان قوانین پر مؤثر عمل درآمد ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں پاکستان ایکارڈ کے سالانہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس کا موضوع کام کی جگہوں پر تحفظ کا مشترکہ فروغ تھا۔

وزیر محنت نے کہا کہ محفوظ اور صحت بخش حالاتِ کار مزدوروں کی عزتِ نفس، ان کے حقوق اور فلاح و بہبود کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت سندھ کے پاس پیشہ ورانہ تحفظ اور صحت کے حوالے سے جامع قانونی فریم ورک موجود ہے، جس میں سندھ آکیوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ ایکٹ 2017 بھی شامل ہے۔ تاہم ان کے مطابق اس فریم ورک کو مؤثر بنانے کے لیے لیبر انسپیکشن کے نظام کو مضبوط کرنا اور متعلقہ اداروں کی صلاحیت میں اضافہ ناگزیر ہے۔

انہوں نے کراچی میں بلدیہ فیکٹری میں لگنے والی آتشزدگی اور بنگلہ دیش میں رانا پلازا کے انہدام جیسے المناک واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ حادثات کام کی جگہوں پر تحفظ کے مؤثر اقدامات اور جوابدہی کے نظام کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے حکومت، کاروباری اداروں، عالمی برانڈز اور خود مزدوروں کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی۔

سعید غنی نے کہا کہ پاکستان ایکارڈ ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کے شعبے میں کام کی جگہوں پر صحت اور تحفظ کے معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، تاہم اس کی سرگرمیاں زیادہ تر برآمدی فیکٹریوں تک محدود ہیں۔ ان کے مطابق ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کے کامیاب طریقہ کار کو دیگر صنعتی شعبوں اور کام کی جگہوں تک بھی وسعت دی جائے۔ انہوں نے عمارتوں کی مضبوطی، فائر سیفٹی، الیکٹریکل سیفٹی اور بوائلر سیفٹی کے حوالے سے پاکستان ایکارڈ کے کام، تربیتی پروگرامز اور شکایات کے ازالے کے نظام کو قابلِ قدر تجربہ قرار دیا۔

وزیر محنت نے کہا کہ عالمی برانڈز کی جانب سے محفوظ فیکٹریوں سے مصنوعات حاصل کرنے کی شرط مقامی صنعت کاروں کو کام کی جگہوں پر تحفظ کے لیے سرمایہ کاری کی ترغیب دیتی ہے۔ حکومت سندھ ایسے اقدامات کی مکمل حمایت کرتی ہے اور مزید بین الاقوامی برانڈز، مقامی تاجروں اور صنعت سے وابستہ افراد کو اس عمل میں تعاون کی دعوت دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مزدوروں کے حقوق کا احترام صرف تجارتی تعلقات یا مصنوعات کی خریداری کی شرائط تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ ایک قانونی فرض اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کام کی جگہوں کا تحفظ اور مزدوروں کے حقوق ذمہ دارانہ تجارت، پائیدار معاشی ترقی اور منصفانہ معاشرے کے بنیادی تقاضے ہیں۔ سندھ اور بالخصوص کراچی میں صنعتی سرگرمیوں، تجارت اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں اور صوبائی حکومت محفوظ ماحولِ کار، مزدوروں کی فلاح و بہبود اور ذمہ دارانہ تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے۔ تقریب سے سیکرٹری محنت سندھ ساجد جمال ابڑو، سید ذوالفقار شاہ، سید نذیر علی، نجہیا رضا، ڈاکٹر سانگی، ڈاکٹر ذیشان اور طارق معین سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں