اسلام آباد ہائیکورٹ کا سانحہ پمز کا مکمل ریکارڈ طلب کرنے کا حکم، کوتاہی ثابت ہونے پر کارروائی کی وارننگ
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سانحہ پمز میں بچوں کی اموات کے معاملے پر وفاقی حکومت، وزارت صحت اور دیگر اداروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انکوائری رپورٹ سمیت مکمل ریکارڈ طلب کرلیا ہے اور واضح کیا ہے کہ کوتاہی ثابت ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سانحہ پمز میں بچوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے معاملے کا مکمل ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔ جسٹس خادم حسین سومرو کی سربراہی میں عدالت نے یہ حکم وکیل ریاض حنیف راہی کی جانب سے دائر درخواست پر دیا، جس میں بچوں کی اموات کا مقدمہ درج کرنے اور متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ ادا کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔
سماعت کے دوران عدالت نے وفاقی حکومت، وزیراعظم آفس، وزارت صحت اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے علاوہ اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی، آڈیٹر جنرل، چیف کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو بھی نوٹس جاری کیے۔ اسی طرح سی ڈی اے، کیپٹل ایمرجنسی سروسز، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز، آئی جی اسلام آباد اور ڈی جی ایف آئی اے کو بھی نوٹس بھیجے گئے ہیں تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں پر مشتمل ریکارڈ عدالت میں پیش کیا جا سکے۔
عدالت نے جسٹس آف پیس کا وہ حکم بھی معطل کردیا جس کے تحت سانحہ پمز کی ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست خارج کی گئی تھی۔ جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیے کہ وہ تمام رپورٹس اور شواہد کا جائزہ لیں گے اور اگر کسی بھی سطح پر کوتاہی سامنے آئی تو ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے گا۔
دوران سماعت وکیل ریاض حنیف راہی نے موقف اختیار کیا کہ سانحے میں چودہ بچے ایک ہی وقت میں جل گئے تھے جبکہ ایک بچہ بعد میں جان کی بازی ہار گیا۔ انہوں نے کہا کہ اب تک اس سانحے پر ایف آئی آر درج نہیں ہوئی حالانکہ انکوائری رپورٹ میں کوتاہی ثابت ہوچکی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر اتنے شواہد اکٹھے کرنے کے باوجود مقدمہ درج نہیں ہوتا تو ان شواہد کا کیا بنے گا۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جسٹس آف پیس نے ہائیکورٹ میں درخواستیں زیر التوا ہونے کی بنیاد پر مقدمہ درج کرنے کی درخواست مسترد کی تھی، جبکہ تھانے میں ان کے سوا کسی اور نے درخواست جمع نہیں کرائی۔ عدالت نے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ اپنے قانونی دلائل پر توجہ دیں اور کیس کی مزید سماعت بارہ نومبر تک ملتوی کردی گئی۔
یہ کیس ملک میں طبی سہولیات کے معیار اور ہسپتالوں میں مریضوں خصوصاً بچوں کی حفاظت سے متعلق اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ عدالت کی جانب سے مکمل ریکارڈ طلب کرنا اور کوتاہی پر کارروائی کی وارننگ اس بات کا عندیہ ہے کہ واقعے کی ذمہ داری کا تعین شفاف طریقے سے کیا جائے گا، جسے عوامی مفاد میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔








