around.pk
Sunday, 8 November 2026
☀ کراچی 26°☀ لاہور 20°☀ اسلام آباد 16°
پاکستان

حافظ نعیم الرحمن کا کراچی میں ترقیاتی کاموں کا دعویٰ اور حکومت پر تنقید

جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کراچی میں ماڈل محلہ اور سڑکوں کے منصوبوں کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ فنڈز نہ ملنے کے باوجود ٹاؤنز اپنے وسائل سے ترقیاتی کام کر رہے ہیں، جبکہ تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے اسکولوں کو ٹاؤنز کے حوالے کرنے کی تجویز دی۔

around.pk·38m ago

کراچی میں ٹی ایم سی ماڈل کالونی کے زیرِ انتظام رفاہ عام چوک، ملیر ہالٹ میں ماڈل محلہ اور سڑکوں کے منصوبوں کا افتتاح کیا گیا، جس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے فنڈز فراہم نہ کیے جانے کے باوجود جماعت اسلامی کے ٹاؤنز اپنی مدد آپ کے تحت ترقیاتی کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گلیوں کی تعمیر، پارکوں کی بحالی، سڑکوں کی صفائی اور کچرے کے نظام کی بہتری پر کام ہو رہا ہے، اور بلدیاتی انتخابات کے وقت جن علاقوں میں مٹی اور گڑھے نظر آتے تھے، آج وہاں پیور بلاک بچھائے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کی معیشت کا محرک ہے اور ٹیکس و ریونیو کے لحاظ سے ملکی معیشت میں اس کا تقریباً نصف حصہ ہے، تاہم طویل عرصے سے شہر کو نظرانداز کیا گیا، جس سے یہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کی خواہش تھی کہ جماعت اسلامی کا میئر ہو، اور انہیں یقین تھا کہ یہ جماعت محدود اختیارات کے باوجود شہر کی حالت بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی شہر کو مزید اختیارات دلانے کے لیے جدوجہل جاری رکھے گی، لیکن اختیارات نہ ملنے کی صورت میں بھی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھے گی۔ انہوں نے بتایا کہ جن علاقوں میں جماعت اسلامی کے ٹاؤنز اور یونین کونسلیں ہیں، وہاں ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں، اور شہریوں کو اپنے محلے میں صاف راستے، پارک اور بہتر ماحول فراہم کرنا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔

تعلیمی شعبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے نو ٹاؤنز میں تقریباً ڈیڑھ سو اسکول ہیں، جن میں سے 73 اسکولوں کی تعمیرِ نو، مرمت اور تزئین و آرائش کی گئی ہے۔ حال ہی میں ناظم آباد کے ایک اسکول کا افتتاح کیا گیا، جہاں مخدوش عمارت کی وجہ سے بچے درختوں کے نیچے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور تھے، تاہم اب وہاں داخلے، یونیفارم، لیبارٹری اور کمپیوٹر لیب کی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں تقریباً ساڑھے تین ہزار سرکاری اسکول موجود ہیں، اور اگر حکومت ان اسکولوں کو ٹاؤنز کے حوالے کر کے مناسب وسائل فراہم کرے تو تعلیمی صورتِ حال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے سندھ میں تعلیم کے 601 ارب روپے کے بجٹ اور تقریباً 41 ہزار اسکولوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وسائل کی فراوانی کے باوجود نظامِ تعلیم کی کارکردگی تسلی بخش نہیں، اور کئی اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی حکومت میں نہ ہونے کے باوجود عوامی مسائل پر آواز اٹھاتی ہے اور عملی کام بھی کرتی ہے۔ اسی سلسلے میں نوجوانوں کے لیے ’بنو قابل‘ پروگرام شروع کیا گیا ہے، جس کے تحت فری آئی ٹی کورسز فراہم کیے جا رہے ہیں، جن کی مارکیٹ میں فیس 50 سے 70 ہزار روپے تک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام میں لڑکے، لڑکیاں اور گھریلو خواتین ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ای کامرس سمیت جدید ہنر سیکھ رہی ہیں، اور اب تک 16 لاکھ افراد کی رجسٹریشن ہو چکی ہے۔

اب تک کی کہانی حافظ نعیم الرحمان

  1. جماعت اسلامی کا پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کا مطالبہ، حکومت کو مہلت
  2. پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کا مطالبہ، جماعت اسلامی نے ملک گیر مہم کا اعلان کردیا
  3. حافظ نعیم الرحمٰن کا مطالبہ: پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو لانگ مارچ دوبارہ ہوگا
  4. جماعت اسلامی نے وزیراعظم کی درخواست پر لانگ مارچ عارضی طور پر روکا
پوری ٹائم لائن دیکھیں →
کراچیسندھجماعت اسلامیحافظ نعیم الرحمانحافظ نعیم الرحمانبنو قابلناظم آباد

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں