جمعرات, 24 ستمبر 2026
around.pk

پاکستان و دنیا کی خبریں

پاکستان

شہریوں کو آف لوڈ کرنے پر اسلام آباد ہائی کورٹ کی ایف آئی اے پر برہمی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی اے سے مطالبہ کیا کہ وہ شہریوں کو آف لوڈ کرنے کا قانونی اختیار عدالت کے سامنے پیش کرے، ایس او پیز کو قانون کا متبادل قرار دینے پر عدالت برہم ہوگئی۔

24 ستمبر 2026, 7:19 صبح

اسلام آباد ہائی کورٹ میں شہریوں کو بیرون ملک سفر سے روکنے اور آف لوڈ کرنے کے معاملے پر سماعت ہوئی۔ جسٹس انعام امین منہاس نے ایف آئی اے کی طرف سے ازخود قواعد و ضوابط (ایس او پیز) بنانے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ ادارہ واضح کرے کہ اسے یہ قانونی اختیار کہاں سے حاصل ہے۔

دوران سماعت ایف آئی اے کی ایڈیشنل ڈائریکٹر زنیرہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر افضل نیازی عدالت میں پیش ہوئے۔ ایف آئی اے نے 1975 کا ایک لیٹر عدالت کے سامنے پیش کیا، مگر عدالت نے کہا کہ اس خط میں کہیں یہ اختیار درج نہیں کہ شہریوں کو آف لوڈ کیا جا سکے۔ حکام نے بتایا کہ یہ اقدامات ایس او پیز کے تحت کیے جاتے ہیں۔

جسٹس انعام امین منہاس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ایس او پیز قانون کا درجہ نہیں رکھتے، ہمیں صرف قانون پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔ اگر ہر ادارہ ایس او پیز کے مطابق کام کرنا شروع کرے تو قانون کی حیثیت ختم ہوجائے گی۔ عدالت نے پوچھا کہ آیا ایسے افراد جو بیرون ملک جا کر جرم یا غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں، وہ بھی ایف آئی اے کی کلیئرنس سے باہر جاتے ہیں؟

ایف آئی اے حکام نے آگاہ کیا کہ 45 ہزار 850 افراد دی پورٹ ہو کر پاکستان واپس آئے ہیں جبکہ وزٹ ویزہ پر پاکستان سے باہر جانے والے 39 ہزار 95 افراد واپس نہیں آئے۔ مزید بتایا گیا کہ 1100 سے زائد پاکستانی بیرون ملک گداگری میں شامل ہیں۔ اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ قانونی اختیار کے بغیر شہریوں کو کس بنیاد پر آف لوڈ کیا گیا۔

اختتام پر عدالت نے ہدایت کی کہ اگلی سماعت پر ایف آئی اے صرف متعلقہ قوانین کا حوالہ دے اور مکمل تیاری کے ساتھ عدالت میں پیش ہو۔ سماعت ملتوی کرتے ہوئے عدالت نے واضح کیا کہ ایس او پیز کو قانون کا متبادل نہیں مانا جائے گا اور شہریوں کے بنیادی حقوق کو مدنظر رکھنا لازم ہے۔

اسی زمرے سے