خواجہ فرید یونیورسٹی میں لیکچرار پر ہراسانی کا الزام، تحقیقات کا آغاز
خواجہ فرید یونیورسٹی میں ایک طالبہ نے لیکچرار پر مبینہ ہراسانی اور دھمکیوں کا الزام عائد کیا ہے، یونیورسٹی انتظامیہ نے معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
22 ستمبر 2026, 7:31 صبح
رحیم یار خان میں واقع خواجہ فرید یونیورسٹی میں ایک طالبہ نے اپنے لیکچرار پر مبینہ طور پر ہراسانی اور نامناسب پیغامات بھیجنے کا الزام عائد کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر زیر گردش واٹس ایپ کے اسکرین شاٹس نے اس معاملے کو اجاگر کر دیا ہے۔
طالبہ کا کہنا ہے کہ لیکچرار نے اسے واٹس ایپ پر نہ صرف نامناسب پیغامات بھیجے بلکہ اس سے ملاقات کے لیے بھی دباؤ ڈالا۔ طالبہ نے مزید الزام لگایا کہ انکار پر اسے تعلیمی نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی گئیں۔
یہ اسکرین شاٹس مبینہ طور پر فیس بک کے ایک گروپ میں شیئر کیے گئے، جس میں طالبہ نے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ لیکچرار نے نمبرز اور گریڈز کا لالچ دے کر اس کو ہراساں کیا۔
طالبہ نے یہ بھی کہا ہے کہ اسے یونیورسٹی، ایس ایم ایس اور فون کالز کے ذریعے بھی ہراساں کیا گیا۔ اس نے وائس چانسلر کو ای میل کے ذریعے معاملے کی اطلاع دینے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی قائم کر دی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ باقاعدہ شکایت موصول ہونے پر ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
اسی زمرے سے
پنجاب اسمبلی میں سرکاری اسپتالوں کی حالت پر تشویش، ن لیگی رکن کی تحریک التوا
17 گھنٹے قبل
پی ٹی آئی احتجاج کے باعث کئی مرکزی شاہراہیں اور موٹر ویز بند کرنے کا فیصلہ
17 گھنٹے قبل
پی ٹی آئی احتجاج، اسلام آباد میں سیکیورٹی کے سخت اقدامات
17 گھنٹے قبل
کراچی: مسجد کے پیش امام گھر میں فائرنگ سے جاں بحق
22 گھنٹے قبل