ایران نے خلیجی ممالک سے دشمنی نہ رکھنے کا اعلان کر دیا، مذاکراتی وفد دوحہ سے روانہ
ایران نے کہا ہے کہ اس کا خلیجی ممالک سے کوئی دشمنی نہیں، تاہم تنبیہ کی ہے کہ سرزمین یا تنصیبات ایران کے خلاف استعمال ہونے پر وہ خاموش نہیں رہے گا۔ دوسری جانب ایرانی مذاکراتی وفد تین روزہ بات چیت کے بعد قطر سے روانہ ہو گیا۔

تہران نے واضح کیا ہے کہ ایران کا خلیجی ممالک یا خطے کے دیگر پڑوسی ملکوں سے کوئی بیر نہیں اور وہ علاقے میں دیرپا سلامتی کے قیام کے لیے تعاون پر آمادہ ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس موقف کا اظہار ایسے وقت میں کیا جب خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
ترجمان کے مطابق بعض خلیجی ممالک نے امریکا کی فوجی موجودگی پر ضرورت سے زیادہ بھروسا کیا ہے اور کچھ ممالک واشنگٹن کے ساتھ فعال تعاون بھی کر رہے ہیں۔ ایران نے تاہم خبردار کیا ہے کہ اگر کسی ملک کی سرزمین یا تنصیبات ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی یا اس کے شہریوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے لیے استعمال ہوئیں تو وہ اس پر خاموش نہیں رہے گا۔
بقائی نے کہا کہ ایران اپنے پڑوسی ممالک سے توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین اور تنصیبات کو اس کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں اعتماد کی فضا قائم کرنے کے لیے تمام ممالک کو ایک دوسرے کے خدشات کا خیال رکھنا ہوگا اور اعتماد سازی کا عمل دوطرفہ ہونا چاہیے۔
ادھر ایران کے مذاکراتی وفد نے قطر میں ثالثوں کے ساتھ تین روزہ بات چیت کے بعد اتوار کو دوحہ سے روانگی اختیار کر لی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مذاکرات سے آگاہ ایک عہدیدار نے بتایا کہ وفد کی روانگی کی وجہ بات چیت میں کسی دشواری یا اختلاف نہیں تھی۔ ان کے مطابق دوحہ میں مشاورت کا محور ایران کے خلاف جاری امریکی اور اسرائیلی جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں تھیں۔
یہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت جاری ہیں جب خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد خطے میں جنگ دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔ ایران کے خلیجی ممالک سے تعلقات اور دوحہ میں جاری کوششیں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی بات چیت کا حصہ ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ بیان خطے میں اعتماد سازی کی ایک کوشش ہے، جس کا مقصد خلیجی ریاستوں کو یقین دلانا ہے کہ تہران کے ساتھ تنازعات کے حل کا راستہ مذاکرات ہی ہیں۔ تاہم فوجی تنصیبات کے حوالے سے ایرانی انتباہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ تہران اپنی سلامتی کو لے کر سنجیدہ ہے اور خطے میں کسی بھی قسم کی غیر معمولی حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
دوحہ میں ہونے والی بات چیت اور ایران کے خلیجی ممالک سے تعلقات میں نرمی کی کوششیں مشرق وسطیٰ میں ایک نازک موقع پر سامنے آئی ہیں، جہاں جنگ کے خاتمے اور علاقائی استحکام کے لیے کئی فریق متحرک ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ سفارتی کوششیں کامیاب رہیں تو اس سے نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے میں کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے۔











