پشاور ہائیکورٹ کا تجاوزات آپریشن کے خلاف درخواستوں پر مزید کارروائی روکنے کا حکم
پشاور ہائیکورٹ نے تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران دکان مسمار کیے جانے کے خلاف دائر درخواستوں پر انتظامیہ کو مزید کارروائی سے روک دیا اور نوٹس جاری کرنے کے حوالے سے رپورٹ طلب کر لی۔

پشاور ہائیکورٹ نے تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے متعلقہ انتظامیہ کو درخواست گزاروں کے خلاف مزید کارروائی سے روکنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ معاملہ سرکل روڈ پر واقع دکانوں کی مسماری سے متعلق ہے، جس پر عدالت نے سرکاری وکیل سے اہم استفسار بھی کیا۔
جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل بینچ نے درخواستوں پر سماعت کی۔ درخواست گزار فیصل قریشی اور نعمان کی جانب سے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی کے دوران سرکل روڈ پر ان کے موکل کی دکان مسمار کر دی گئی، جبکہ مسماری سے قبل کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا تھا۔
دوران سماعت جسٹس سید ارشد علی نے سرکاری وکیل سے پوچھا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع کرنے سے پہلے متعلقہ افراد کو نوٹس جاری کیا جاتا ہے یا نہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ بغیر نوٹس کسی کے خلاف کارروائی کیسے کی جا سکتی ہے، اور اس حوالے سے رپورٹ مرتب کرنے کی ہدایت کی۔
عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر متعلقہ افسران بھی پیش ہوں تاکہ معاملے کی مکمل صورتحال سامنے آ سکے۔ عدالت نے واضح کیا کہ تجاوزات سے متعلق تمام کیسز کو ایک ساتھ سنا جائے گا اور متعلقہ فریقین سے جواب طلب کیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے انتظامیہ کو حکم دیا کہ وہ آئندہ سماعت تک درخواست گزاروں کے خلاف کوئی مزید کارروائی نہ کرے۔ اس معاملے کی مزید سماعت پانچ نومبر تک ملتوی کر دی گئی ہے، جہاں رپورٹ اور متعلقہ افسران کی حاضری کی بنیاد پر پیش رفت ہوگی۔
یاد رہے کہ شہری علاقوں میں تجاوزات کے خلاف کارروائیاں اکثر متنازع بن جاتی ہیں جب متعلقہ افراد کو پیشگی اطلاع یا قانونی موقع فراہم نہ کیا جائے۔ عدالت کی اس مداخلت سے یہ واضح پیغام گیا ہے کہ کسی بھی کارروائی سے قبل قانونی تقاضے پورے کرنا لازمی ہے۔








