پنجاب اسمبلی کمیٹی کا صوبے بھر میں قانونی و غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی تفصیلات طلب کرنے کا حکم
پنجاب اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو 60 روز میں اضلاع میں قائم ہاؤسنگ سوسائٹیز کی مکمل تفصیلات جمع کرانے کی ہدایت کی ہے، ساتھ ہی غیر قانونی سوسائٹیز کے قیام میں سرکاری غفلت اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پنجاب اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون نے صوبے بھر میں قائم قانونی اور غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی مکمل تفصیلات طلب کرتے ہوئے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 روز کے اندر اپنے اضلاع میں موجود سوسائٹیز کا مکمل ریکارڈ کمیٹی کو جمع کرائیں۔ یہ ہدایت لاہور سمیت پورے صوبے میں رہائشی منصوبوں کی شفافیت اور نگرانی کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
کمیٹی کا اجلاس میں یہ معاملہ اٹھایا گیا کہ صوبے میں کتنی ہاؤسنگ سوسائٹیز قائم ہیں، ان میں سے کتنی قانونی اور کتنی غیر قانونی ہیں، اور غیر قانونی سوسائٹیز کے قیام میں کون سے سرکاری ادارے کوتاہی یا غفلت کے مرتکب ہوئے۔ کمیٹی نے غیر قانونی سوسائٹیز کے قیام میں ملوث ذمہ داروں کا تعین کرنے کی بھی ہدایت کی ہے تاکہ آئندہ ایسے منصوبوں کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو، سیکرٹری بلدیات اور سیکرٹری ہاؤسنگ سے بھی تمام تر تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ متعلقہ حکام سے یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے خلاف اب تک کیا کارروائیاں کی گئیں، ان کے قیام کو روکنے کے لیے کون سے اقدامات کیے گئے اور خلاف ورزیوں پر ذمہ داروں کے خلاف کس قسم کی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
کمیٹی نے قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں پلاٹوں کی فائلوں کی خرید و فروخت کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ حکام سے استفسار کیا گیا ہے کہ منظور شدہ سوسائٹیز میں دستیاب اراضی کے مقابلے میں زیادہ پلاٹوں کی فائلیں کیسے فروخت کی جا رہی ہیں، اور یہ معاملہ شہریوں کے مفادات کو کس حد تک متاثر کر رہا ہے۔
کمیٹی نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ سوسائٹیز کی ملکیتی اراضی سے زائد پلاٹ فائلوں کی فروخت سے متاثر ہونے والے شہریوں کی داد رسی کے لیے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام سوالات کے جوابات اور مطلوبہ ریکارڈ مقررہ مدت کے اندر کمیٹی کو پیش کریں تاکہ معاملے کا جامع جائزہ لیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی روک تھام اور ریکارڈ کی شفافیت نہ صرف سرمایہ کاری کرنے والے شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے بلکہ شہری منصوبہ بندی اور زمین کے استعمال کے نظام کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ کمیٹی کی جانب سے دی گئی 60 روز کی مہلت کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ صوبائی سطح پر ہاؤسنگ سوسائٹیز سے متعلق ایک واضح اور مستند ڈیٹا سامنے آئے گا۔








