around.pk
Sunday, 1 November 2026
☀ کراچی 24°☀ لاہور 20°☀ اسلام آباد 17°
ٹیکنالوجی

کائنات کے خاموش پیام بر: نیوٹرینو کی دنیا اور طبیعیات کا نوبیل انعام

قطب جنوبی کی برف میں نصب آئس کیوب رصدگاہ کے ذریعے کائناتی نیوٹرینو کی دریافت پر فرانسس ہالزن کو طبیعیات کا نوبیل انعام 2026 دیا گیا، یہ پیش رفت روشنی سے آگے کی کائناتی دنیا کا مطالعہ ممکن بناتی ہے۔

around.pk·1h ago

اکتوبر 2026 میں سویڈش شاہی اکادمی برائے علوم نے طبیعیات کا نوبیل انعام فرانسس ہالزن کو عطا کیا۔ یہ اعزاز قطب جنوبی میں قائم آئس کیوب نیوٹرینو رصدگاہ میں ان کی فیصلہ کن خدمات اور فلکیاتی ماخذ سے آنے والے بلند توانائی کے نیوٹرینو کی دریافت کے اعتراف میں دیا گیا۔ اس انعام کا مطلب صرف ایک سائنسی آلے کی تعمیر یا ایک ذرے کی شناخت نہیں، بلکہ یہ اس تصور کی کامیابی ہے کہ کائنات کو سمجھنے کے لیے روشنی کے علاوہ دوسرے ذرائع سے آنے والے اشاروں کو بھی سنا جائے۔

نیوٹرینو بنیادی ذرّات کی اس جماعت سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں لیپٹون کہا جاتا ہے۔ ان پر کوئی برقی بار نہیں ہوتا، ان کی کمیت نہایت معمولی ہے اور یہ مادّے کے ساتھ انتہائی کم تعامل کرتے ہیں۔ اسی خصوصیت کی بنا پر انہیں عام زبان میں بھوت ذرّات کہا جاتا ہے، تاہم یہ نام کسی پراسرار حیثیت کی طرف اشارہ نہیں کرتا بلکہ اس دشواری کو ظاہر کرتا ہے جس کی وجہ سے انہیں تلاش کرنا اور ان کے راستے کا تعین کرنا مشکل ہے۔

یہ ذرّات سورج کے اندرونی جوہری تعاملات، تاب کار عملوں، کائناتی شعاعوں کے اثرات اور دور دراز فلکیاتی واقعات سے پیدا ہوتے ہیں۔ ہر لمحہ ان کی بے شمار تعداد زمین اور انسانی جسم سے گزرتی ہے، مگر ان میں سے بیشتر کسی ایٹمی مرکزے سے ٹکرائے بغیر اپنا سفر جاری رکھتے ہیں۔ سائنسی مشاہدے کے لیے ضروری ہے کہ کوئی ذرہ اپنے نادر تعامل کے ذریعے ایسا اثر چھوڑے جسے حساس آلات محسوس کر سکیں۔

قطب جنوبی کی برف میں ایسی رصدگاہ قائم کرنے کا تصور 1988 میں پیش کیا گیا۔ اس کی منطق یہ تھی کہ اگر نیوٹرینو کسی ایٹمی مرکزے سے ٹکرا کر باردار ذرہ پیدا کرے جو برف میں روشنی کی رفتار سے کم لیکن مادّے میں روشنی کی رفتار سے زیادہ رفتار سے چلے تو وہ ایک مخصوص نیلی چمک پیدا کرتا ہے جسے چیرنکوف تابکاری کہا جاتا ہے۔ برف میں نصب انتہائی حساس نوری حسّاس آلات اس چمک کو ریکارڈ کر سکتے ہیں، یوں ایک غیر مرئی ذرہ اپنے نادر تعامل کے ذریعے اپنی موجودگی کا سراغ چھوڑ دیتا ہے۔

آئس کیوب رصدگاہ تقریباً ایک مکعب کلومیٹر برف کو ایک وسیع آشکار کنندہ میں تبدیل کرتی ہے۔ اس کے تقریباً 5160 نوری حسّاس آلات برف کی گہرائیوں میں نصب ہیں جو روشنی کے مقام، وقت اور پھیلاؤ کا مطالعہ ممکن بناتے ہیں۔ یہ منصوبہ 2010 کے آس پاس مکمل ہوا اور 2013 میں محققین نے بلند توانائی والے ایسے نیوٹرینو کی دریافت کا اعلان کیا جو نظامِ شمسی سے باہر کے کائناتی ماحول سے آئے تھے، جس سے نیوٹرینو فلکیات ایک باقاعدہ مشاہداتی شاخ بن گئی۔

اس کامیابی کا سبق یہ ہے کہ علم میں بڑی پیش رفت کبھی کسی شے کو براہِ راست دیکھنے کے بجائے اس کے باریک اثرات کو سمجھنے سے حاصل ہوتی ہے۔ انسان نے برف کو صرف ایک منجمد مادّہ سمجھنے کے بجائے ایک وسیع سائنسی آلے میں بدل دیا اور شدید سردی اور تنہائی والے خطے کو کائنات کے رازوں کی تحقیق کا مرکز بنا دیا۔ فرانسس ہالزن کی قیادت میں مختلف ممالک کے سائنس دانوں اور انجینئروں نے مل کر ایسا نظام قائم کیا جس سے کائناتی ذرّات کے نادر تعاملات کا سراغ لگایا جا سکتا ہے، اور یہ اعزاز یاد دلاتا ہے کہ بڑی سائنسی کامیابیوں کے پیچھے اجتماعی محنت، صبر اور مسلسل جانچ ضروری ہوتی ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں