زمین پر مریخ کی 4 ارب سال قدیم چٹان دریافت، سائنسدانوں نے نیا سنگ میل حاصل کر لیا
ناسا کے سائنسدانوں نے مریخ کی تقریباً 4 ارب 10 کروڑ سال پرانی چٹان زمین پر دریافت کر لی ہے، جسے ٹیغزا 001 کا نام دیا گیا ہے اور یہ مریخ کے ابتدائی ماحول اور پانی کی موجودگی کو سمجھنے میں مدد دے گی۔
یہ خبر اور ہر اہم خبر سب سے پہلے واٹس ایپ پر پائیںaround.pk اردو خبریں چینل — مفت، بغیر سپیم فالو کریں
سائنسدانوں نے زمین پر مریخ کی قدیم ترین چٹانوں میں سے ایک دریافت کر لی ہے، جس کے تجزیے سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً 4 ارب 10 کروڑ سال قبل پانی نے سرخ سیارے کی بیرونی سطح کو متاثر کیا تھا۔ اس نایاب شہابی پتھر کو ٹیغزا 001 کا نام دیا گیا ہے اور اس کا رنگ گلابی مائل بتایا جاتا ہے۔
امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری سے وابستہ سیاروی سائنس دان یانگ لیو، جو اس تحقیق کی مرکزی مصنفہ بھی ہیں، کے مطابق یہ انتہائی نایاب اور قدیم شہابی پتھر مریخ کی ابتدائی بیرونی پرت اور اندرونی ساخت کے مطالعے کا منفرد موقع فراہم کرتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس کی کیمیائی ساخت مریخ سے پہلے دریافت ہونے والے دیگر شہابی پتھروں سے مختلف اور منفرد ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ چٹان اس دور سے تعلق رکھتی ہے جب زمین پر زندگی کی ابتدا ہو رہی تھی، اور اس کے تجزیے سے مریخ کے ابتدائی جغرافیائی حالات کے بارے میں بھی اہم معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ شہابی پتھر مریخ کے اندرونی حصے یعنی مینٹل سے نکلنے والے پگھلے ہوئے مادے سے تشکیل پایا تھا جو ٹھنڈا ہونے کے بعد سیارے کی بیرونی پرت کا حصہ بن گیا۔
نمونے کی کیمیائی ساخت ظاہر کرتی ہے کہ یہ مریخ کے ایسے علاقے سے تعلق رکھتا ہے جس کی چٹانوں کا اس سے پہلے مطالعہ نہیں کیا گیا تھا۔ یہ تحقیق 29 اکتوبر کو جرنل سائنس میں شائع ہوئی اور اسے مریخ کی ابتدائی تاریخ، اس کی ارضیاتی ساخت اور ماضی میں پانی کی موجودگی کو سمجھنے کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ مریخ سے زمین پر آنے والے شہابی پتھر خلا میں طویل سفر طے کرنے کے بعد ہماری فضا میں داخل ہوتے ہیں، اور سائنسدان ان نمونوں کا مطالعہ کر کے سرخ سیارے کی تاریخ کے بارے میں نئی معلومات حاصل کرتے ہیں۔ ٹیغزا 001 کی دریافت سے مریخ کے ماضی اور ممکنہ طور پر حیات کے امکانات پر تحقیق کو نئی راہ مل سکتی ہے۔
اب تک کی کہانی ناسا
- لاہور میں پانچ سال بعد اکتوبر کے مہینے میں اے کیو آئی 300 سے تجاوز نہیں کر سکا، مریم اورنگزیب
- ناسا کا X-70 فریکٹل طیارہ: ایسا تجرباتی جہاز جو اب تک کے تمام طیاروں سے منفرد ہوگا
- ناسا کی سوئفٹ خلائی دوربین 22 سال کے مشن کے بعد فضا میں داخل ہو کر تباہ











