around.pk
Sunday, 8 November 2026
☀ کراچی 25°☀ لاہور 20°☀ اسلام آباد 17°
پاکستان

لاہور میں نومبر کے پہلے ہفتے فضائی آلودگی خطرناک سطح پر برقرار رہی

پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو کے مطابق یکم سے 7 نومبر تک لاہور کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس 268 رہا جبکہ 2 نومبر کو یہ 335 تک پہنچ گیا۔ فضا میں پی ایم 2.5 کی اوسط مقدار 215.5 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی جو عالمی ادارہ صحت کی حد سے تقریباً 14 گنا زیادہ ہے۔

around.pk·2m ago

لاہور میں نومبر کے پہلے ہفتے میں فضائی آلودگی مسلسل غیر صحت بخش سطح سے بڑھ کر خطرناک درجے تک پہنچتی رہی۔ پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو کی رپورٹ کے مطابق یکم سے 7 نومبر کے دوران شہر کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس 268 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ 2 نومبر کو یہ بڑھ کر 335 تک جا پہنچا جو اس ہفتے کی بلند ترین سطح تھی۔

رپورٹ کے مطابق ان سات دنوں میں پانچ دن ہوا کا معیار انتہائی غیر صحت بخش جبکہ دو دن خطرناک درجے میں رہا۔ اس عرصے میں فضا میں موجود باریک آلودہ ذرات یعنی پی ایم 2.5 کی اوسط مقدار 215.5 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی جو عالمی ادارہ صحت کی مقررہ حد 15 مائیکروگرام سے تقریباً 14 گنا زیادہ ہے۔

آلودگی بڑھنے کی وجوہات میں آگ لگنے کے واقعات اور ان سے اٹھنے والے دھوئیں کا بھی کردار بتایا گیا ہے۔ شہر میں روزانہ اوسطاً 54.8 مقامات پر آگ لگنے کے واقعات ریکارڈ ہوئے۔ جن دنوں کم از کم 11 مقامات پر آگ لگی، ان دنوں اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس 207 رہا جبکہ دیگر دنوں میں یہ 158 ریکارڈ کیا گیا۔

موسمی حالات کو بھی آلودگی میں اضافے کی اہم وجہ قرار دیا گیا ہے۔ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں رواں سال پی ایم 2.5 کی مقدار 25 فیصد زیادہ رہی۔ رات کے وقت کم درجہ حرارت اور ہوا کی سست رفتار کے باعث آلودہ ذرات فضا میں زیادہ دیر تک موجود رہے۔ نو سال کے ریکارڈ کے مطابق رواں سال کا یہ ہفتہ لاہور میں فضائی آلودگی کے لحاظ سے تیسرا بدترین ہفتہ تھا۔

رپورٹ میں بھارت کی سمت سے آنے والی ہواؤں کا بھی جائزہ لیا گیا، تاہم یکم سے 7 نومبر کے دوران کسی بھی دن ان ہواؤں کا حصہ 25 فیصد سے زیادہ نہیں رہا۔ تجزیے کے مطابق جن دنوں ان ہواؤں کا حصہ زیادہ تھا ان دنوں لاہور کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس 160 جبکہ دیگر دنوں میں 187 ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ہوا کے راستوں کا تجزیہ آلودگی کے اصل منبع کی تصدیق نہیں کرتا۔

اسموگ رینک کے مطابق گزشتہ سات دنوں میں لاہور میں پی ایم 2.5 کی اوسط مقدار 210.1 مائیکروگرام فی مکعب میٹر رہی جو گزشتہ ایک سال کی اوسط 65.2 مائیکروگرام سے تقریباً 3.2 گنا زیادہ ہے۔ 2 نومبر کو یہ مقدار 282.1 مائیکروگرام تک پہنچ گئی۔ اسی روز ناسا کے سیٹلائٹس نے لاہور کے گرد 300 کلومیٹر کے علاقے میں آگ لگنے کے 488 واقعات کی نشاندہی کی جن میں سے 204 واقعات 100 کلومیٹر کے دائرے میں ریکارڈ ہوئے، تاہم ان واقعات کا دھواں لاہور تک پہنچنے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

رپورٹ کے مطابق لاہور میں فضائی آلودگی سال بھر بلند رہتی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران عام دنوں میں پی ایم 2.5 کی اوسط مقدار 65.2 مائیکروگرام رہی جو عالمی ادارہ صحت کی حد سے 4.3 گنا زیادہ ہے، جبکہ نومبر اور دسمبر آلودگی کے بدترین مہینے رہے جن میں یہ مقدار 237.7 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ میں ممکنہ وجوہات میں گاڑیوں اور دیگر مقامی ذرائع کے علاوہ آگ لگنے کے واقعات، فصلوں کی باقیات جلانا، گردوغبار اور سردیوں کے موسمی حالات شامل کیے گئے ہیں۔ یہ تجزیہ لاہور میں فضائی آلودگی کی پیمائش، ناسا کے فائر ڈیٹیکشن سسٹم اور امریکی ادارے نووا کے دھوئیں سے متعلق نقشوں کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

اب تک کی کہانی ناسا

  1. زمین پر مریخ کی 4 ارب سال قدیم چٹان دریافت، سائنسدانوں نے نیا سنگ میل حاصل کر لیا
  2. لاہور میں پانچ سال بعد اکتوبر کے مہینے میں اے کیو آئی 300 سے تجاوز نہیں کر سکا، مریم اورنگزیب
  3. ناسا کا X-70 فریکٹل طیارہ: ایسا تجرباتی جہاز جو اب تک کے تمام طیاروں سے منفرد ہوگا
  4. ناسا کی سوئفٹ خلائی دوربین 22 سال کے مشن کے بعد فضا میں داخل ہو کر تباہ
پوری ٹائم لائن دیکھیں →
لاہورناساپاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹوعالمی ادارہ صحتعالمی ادارہ صحتنووا

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں