ایران کے نیچے عربین ٹیکٹونک پلیٹ میں دو بڑی دراڑوں کی نشاندہی
چینی سائنس دانوں نے ایران کے جنوب مشرقی علاقے کے نیچے زمین کی ایک بڑی ٹیکٹونک پلیٹ میں دو وسیع دراڑیں دریافت کی ہیں، جو براعظموں کی تشکیل اور سمندروں کے خاتمے کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
یہ خبر اور ہر اہم خبر سب سے پہلے واٹس ایپ پر پائیںaround.pk اردو خبریں چینل — مفت، بغیر سپیم فالو کریں
چینی اکیڈمی آف سائنسز کے محققین کی سربراہی میں کی گئی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ایران کے جنوب مشرقی علاقے کے نیچے زمین کی ایک بڑی ٹیکٹونک پلیٹ میں دو وسیع دراڑیں موجود ہیں۔ یہ تحقیق جرنل نیچر جیو سائنس میں شائع ہوئی ہے اور اسے زمین کی اندرونی ساخت اور براعظموں کی تشکیل سے متعلق اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ دراڑیں عربین پلیٹ میں پائی جاتی ہیں اور ان کی بنیادی وجہ مختلف اقسام کی چٹانوں کی کثافت اور ساخت میں فرق ہے۔ سائنس دانوں نے بتایا کہ اس پلیٹ کا ایک حصہ قدیم بحیرہ نیو-ٹی دِس کی سمندری تہہ کا حصہ تھا، جہاں موجود بھاری بیسالٹ چٹانیں دوسری پلیٹ کے نیچے دھنس رہی ہیں، جبکہ پلیٹ کا دوسرا حصہ نسبتاً ہلکی اور موٹی براعظمی چٹانوں پر مشتمل ہے۔
محققین کے مطابق سمندری اور براعظمی چٹانوں کی خصوصیات میں اس فرق کی وجہ سے پلیٹ کے مختلف حصوں پر دباؤ پڑ رہا ہے، جس کے نتیجے میں اس میں بڑی دراڑیں پیدا ہو رہی ہیں۔ براعظمی چٹانیں زیر زمین دھنسنے کے بجائے مزاحمت دکھاتی ہیں اور پہاڑوں کی تشکیل کا سبب بنتی ہیں۔
اس دریافت سے سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ لاکھوں سال کے دوران سمندر کس طرح ختم ہوتے ہیں، براعظم کیسے آپس میں ٹکراتے ہیں اور زمین کی سطح پر بڑی جغرافیائی تبدیلیاں کیسے رونما ہوتی ہیں۔ یہ تحقیق زمین کی ارضیاتی تاریخ اور ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت کے پیچیدہ عمل کو سمجھنے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
واضح رہے کہ ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت اور ان کے باہمی تعامل کا مطالعہ زلزلوں اور دیگر قدرتی مظاہر کو سمجھنے کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس قسم کی تحقیقات طویل مدتی ارضیاتی پیش رفت کا اندازہ لگانے میں مدد دیتی ہیں۔
اب تک کی کہانی چین
- بھارت میں طلبہ اور کسانوں کے احتجاج سے مودی حکومت پر دباؤ بڑھ گیا
- پاکستان کے پہلے خلا باز شینژو 24 مشن کے ذریعے چینی خلائی اسٹیشن جائیں گے
- پاکستان کا بیرونی قرضہ ایک دہائی میں تقریباً دگنا، 135 ارب ڈالر تک پہنچ گیا
- چینی الیکٹرک گاڑی نے 503 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا










