وسطی ایشیا میں نیا اسٹریٹجک کھیل: روسی اثر و رسوخ کم ہونے پر بھارت اور چین کی اسلحے کی دوڑ
وسطی ایشیا کی تیل و گیس سے مالامال ریاستیں روس کے کمزور ہوتے اثر و رسوخ کے پیش نظر بھارت اور چین سے ہتھیار خرید رہی ہیں، جس سے یوریشیا کے قلب میں ایک نئی اسٹریٹجک رقابت جنم لے رہی ہے۔
یہ خبر اور ہر اہم خبر سب سے پہلے واٹس ایپ پر پائیںaround.pk اردو خبریں چینل — مفت، بغیر سپیم فالو کریں
وسطی ایشیا کی تیل و گیس سے مالامال ریاستوں میں روس کے روایتی اثر و رسوخ کے کمزور پڑنے کے ساتھ ایک نئی دفاعی اور سفارتی صورتحال ابھر رہی ہے۔ ان ممالک نے اپنی خودمختاری کو مضبوط بنانے اور روسی ہتھیاروں پر انحصار کم کرنے کے لیے بھارت اور چین جیسے متبادل سپلائرز کی طرف رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان یوریشیا کے قلب میں ایک نئی قسم کی اسٹریٹجک رقابت کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں اقتصادی مفادات اور ارضی سیاست ایک ساتھ حرکت کر رہے ہیں۔
بھارتی دفاعی حکام نے تصدیق کی ہے کہ بھارت میں تیار کردہ سطح سے ہوا میں مار کرنے والا میزائل نظام ’آکاش‘ تاجکستان اور ترکمانستان کو برآمد کیا جا رہا ہے۔ ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (DRDO) کی جانب سے تیار کردہ یہ نظام 18 سے 20 کلومیٹر کی بلندی تک طیاروں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسے بھارتی راجندرا ریڈار نیٹ ورک اور لاجسٹک مینٹیننس پیکج کے ساتھ فراہم کیا جائے گا، تاہم بیٹریوں کی تعداد اور مالیت ظاہر نہیں کی گئی۔ یہ معاہدے 2022 میں آرمینیا کے ساتھ ہونے والے بھارت کے پہلے دفاعی معاہدے کی بنیاد پر آگے بڑھائے گئے ہیں۔ اس طرح تاجکستان اور ترکمانستان کو پرانے سوویت اور روسی سازوسامان سے جان چھڑانے کا ایک سستا اور قابلِ اعتماد متبادل ملتا ہے، اور انہیں مکمل طور پر چینی اسلحے پر بھی انحصار نہیں کرنا پڑتا۔
دوسری جانب چین نے ازبکستان کو J-10C لڑاکا طیارے فراہم کیے ہیں۔ گزشتہ ستمبر میں ازبکستان پاکستان کے بعد چین کے اس جدید جنگی طیارے کا دوسرا تصدیق شدہ غیر ملکی صارف بن گیا۔ ازبک حکام کی جانب سے جاری کردہ سرکاری فوٹیج میں تاشقند میں کم از کم چھ طیارے کام کرتے دکھائے گئے، جس سے یہ تصدیق ہو گئی کہ ازبکستان نے ایسے 24 طیاروں کا آرڈر دے رکھا ہے اور کچھ طیارے اسے مل بھی چکے ہیں۔ یہ فروخت چین کے لیے ایک ایسی اہم وسطی ایشیائی دفاعی مارکیٹ میں کامیابی ہے جو طویل عرصے تک سوویت اور روسی اسلحے کے زیر اثر رہی ہے۔ چین کا یہ 4.5 جنریشن طیارہ مسابقتی قیمت، تیز ترسیل اور جدید ایویونکس کی وجہ سے خریداروں کو متوجہ کرتا ہے، جبکہ پابندیوں کا شکار روسی حریفوں کے مقابلے میں زیادہ قابلِ رسائی سمجھا جاتا ہے۔
روس اور یوکرین کی طویل جنگ نے وسطی ایشیائی ریاستوں کو اپنے سیکورٹی تعلقات کا از سرِ نو جائزہ لینے پر مجبور کیا ہے۔ امریکی تھنک ٹینک ہڈسن انسٹی ٹیوٹ کی دسمبر 2025 کی رپورٹ میں محققہ تسپورا فرائیڈ نے نوٹ کیا کہ یوکرین پر روسی حملے نے وسطی ایشیا میں روسی غلبے کے زوال کو تیز کر دیا ہے، جس کے باعث یہ خطہ کثیر قطبی منظرنامے میں بٹ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی پابندیوں اور جنگی رکاوٹوں نے وسطی ایشیائی ممالک کو روس پر اندھا دھند انحصار کے خطرات سے آگاہ کیا ہے، اور اس صورتحال نے تجارتی راستوں، توانائی کی پائپ لائنوں اور رقوم کی ترسیل کو غیر مستحکم کرنے کے ساتھ علاقائی مہنگائی کو بھی ہوا دی ہے۔
روس کی کمزور ہوتی اسلحے کی برآمدات کے اعداد و شمار بھی اس رجحان کی تصدیق کرتے ہیں۔ سویڈن کے ادارے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کے مارچ 2026 کے اعداد و شمار کے مطابق 2016 تا 2025 کے نو سالوں میں روس کے اہم ہتھیاروں کی برآمدات میں 64 فیصد کمی آئی، جس سے عالمی برآمدات میں روسی اسلحے کا حصہ 21 فیصد سے گھٹ کر صرف 6.8 فیصد رہ گیا۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کے سرفہرست دس ہتھیار برآمد کرنے والے ممالک میں روس واحد سپلائر تھا جس کی برآمدات میں گراوٹ آئی، جبکہ الجزائر، چین اور مصر کو اسلحے کی ترسیل میں بھی شدید کمی ریکارڈ کی گئی۔ سویڈش ادارے کے ڈیٹا سے مزید معلوم ہوتا ہے کہ روسی برآمدات کا تقریباً تین چوتھائی حصہ بھارت، چین اور بیلاروس تک محدود تھا، جبکہ روسی اسلحہ ساز کمپنیوں کے زیرِ التوا غیر ملکی آرڈرز میں بھی حریف سپلائرز کے مقابلے میں تیزی سے کمی آئی ہے۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ وسطی ایشیائی ریاستیں عسکری اور معاشی طور پر مشکلات کا شکار روس سے فاصلہ اختیار کرتے ہوئے بھارت اور چین جیسے ابھرتے ہوئے سپلائرز کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ بھارت کا مقصد ایک اہم عالمی اسلحہ برآمد کنندہ کے طور پر اپنی حیثیت مستحکم کرنا اور اسٹریٹجک خطے میں طویل مدتی تعلقات کو فروغ دینا ہے، جبکہ چین اپنے مغربی علاقوں میں اثر و رسوخ بڑھانے پر توجہ دے رہا ہے۔ یہ دوڑ نہ صرف روس کے دیرینہ علاقائی اثر کو چیلنج کر رہی ہے بلکہ چین اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک مسابقت کا بھی عکاس ہے، جو آنے والے برسوں میں وسطی ایشیا کی دفاعی اور سفارتی ترجیحات کا رخ متعین کر سکتی ہے۔
اب تک کی کہانی روس
- روس میں 5300 سال پرانی قبر سے گردے کی پتھری دریافت
- ترک صدر اور ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، ایران کشیدگی اور یوکرین جنگ پر گفتگو
- ایران کا امریکا سے مطالبہ: تحریری وعدے نہیں، عملی اقدامات چاہیے
- اسپین کا یوکرین کے لیے 437 ملین یورو کے فوجی امدادی پیکج کا اعلان











