around.pk
Sunday, 8 November 2026
☀ کراچی 24°☀ لاہور 18°☀ اسلام آباد 16°
ٹیکنالوجی

پاکستانی طلبہ کا رجحان: 81 فیصد کی پہلی پسند کمپیوٹر سائنس، آئی ٹی اور اے آئی

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کے تعلیمی اداروں میں 81 فیصد طلبہ کا رجحان کمپیوٹر سائنس، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی طرف ہے، جبکہ بزنس ایڈمنسٹریشن اور نیچرل سائنسز اگلے مقامات پر ہیں۔

around.pk·59m ago

ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں طلبہ و طالبات کے تعلیمی رجحان میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے اور اب 81 فیصد طلبہ کی پہلی پسند کمپیوٹر سائنس، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا شعبہ قرار پایا ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور حالیہ تعلیمی رجحانات سے متعلق معلومات کے مطابق یہ شعبہ ملک کا سب سے مقبول اور تیزی سے پھیلتا ہوا ڈسپلن بن چکا ہے، جس کے ذیلی شعبوں میں سافٹ ویئر انجینئرنگ، آرٹیفیشل انٹیلیجنس، ڈیٹا سائنس اور سائبر سکیورٹی شامل ہیں۔

مقبولیت کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر بزنس ایڈمنسٹریشن اور مینجمنٹ سائنسز کا شعبہ ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر، بینکاری اور اپنے کاروبار کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے یہ شعبہ اب بھی طلبہ کی بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے، جس کے ذیلی شعبوں میں بی بی اے، اکاؤنٹنگ اینڈ فائنانس، مارکیٹنگ اور ایم بی اے شامل ہیں۔ تیسرے نمبر پر نیچرل سائنسز اور میتھمیٹکس ہیں، جن میں چار لاکھ سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں اور جن کے ذیلی شعبوں میں فزکس، کیمسٹری، میتھمیٹکس اور بائیو ٹیکنالوجی شامل ہیں۔

چوتھے نمبر پر میڈیکل اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز کا شعبہ ہے، جس میں ایم بی بی ایس کے علاوہ فارمیسی، ڈاکٹر آف فزیکل تھراپی اور نرسنگ جیسے ذیلی شعبے شامل ہیں۔ پانچویں نمبر پر سوشل سائنسز اور ہیومینیٹیز ہیں، جن کے ذیلی شعبوں میں سائیکالوجی، انٹرنیشنل ریلیشنز، میڈیا اینڈ ماس کمیونیکیشن اور انگریزی ادب شامل ہیں۔ چھٹے نمبر پر انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کا شعبہ ہے، جس کے ذیلی شعبوں میں الیکٹریکل، سول اور مکینیکل انجینئرنگ شامل ہیں، جبکہ ساتویں نمبر پر لاء کا شعبہ ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اس وقت تقریباً 30 لاکھ سے زائد طلبہ یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم ہیں، جن میں سے تقریباً ایک تہائی یعنی 10 لاکھ سے زائد طلبہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں سے وابستہ ہیں۔ یہ امر ملک میں اعلیٰ تعلیم کے میدان میں تکنیکی اور ڈیجیٹل شعبوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

ماہرین تعلیم کے مطابق کمپیوٹر سائنس، آئی ٹی اور اے آئی کی طرف طلبہ کے بڑھتے ہوئے رجحان کی اہم وجہ ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں ان شعبوں میں روزگار کے وسیع مواقع ہیں۔ فری لانسنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات میں مسلسل اضافہ بھی اس رجحان کو مزید تقویت دے رہا ہے، جبکہ یونیورسٹیاں بھی جدید ڈگری پروگرام متعارف کروا رہی ہیں تاکہ طلبہ کو بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق ہنر فراہم کیا جا سکے۔

اب تک کی کہانی مصنوعی ذہانت

  1. پوپ لیو چہاردہم کا مصنوعی ذہانت سے خبردار: اخلاقی اصولوں کے بغیر ٹیکنالوجی انسانیت کے لیے خطرہ
  2. اوپن اے آئی میں جاسوسی کا الزام، سعودی انجینئر نے خود کو بے گناہ قرار دے دیا
  3. چیٹ جی پی ٹی میں متحرک GIF بنانے کی نئی سہولت متعارف
  4. شنگھائی تعاون تنظیم کی قیادت: پاکستان کی ترجیحات میں اے آئی، علاقائی روابط اور نوجوانوں کی شمولیت شامل
پوری ٹائم لائن دیکھیں →
تعلیممصنوعی ذہانتہائر ایجوکیشن کمیشنبزنس ایڈمنسٹریشنکمپیوٹر سائنسانفارمیشن ٹیکنالوجی

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں