around.pk
Sunday, 8 November 2026
☀ کراچی 24°☀ لاہور 19°☀ اسلام آباد 16°
کاروبار

سندھ کے ساحلی علاقوں میں نومبر میں کپاس کی کاشت، ملکی تاریخ میں پہلی بار

ٹھٹھہ اور سجاول کے ساحلی علاقوں میں درجہ حرارت میں تبدیلی کے باعث نومبر کے دوسرے ہفتے میں کپاس کی کاشت شروع ہو گئی ہے، جس سے ریکارڈ پیداوار کی توقعات وابستہ ہیں۔

around.pk·7m ago

سندھ کے ساحلی اضلاع ٹھٹھہ اور سجاول کے مختلف علاقوں میں رواں سال نومبر کے دوسرے ہفتے میں کپاس کی کاشت کا آغاز ہو گیا ہے، جو ملکی زرعی تاریخ میں پہلی بار سامنے آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس غیر معمولی پیش رفت کی وجہ خطے میں برقرار رہنے والا مطلوبہ درجہ حرارت ہے۔ یہ کاشت چوہڑ جمالی، میر پور ساکرو، گھاڑو، بہارو، کیٹی بندر اور چھچھ جان جیسے علاقوں میں کی جا رہی ہے۔

زرعی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ موسمی صورتحال اسی طرح برقرار رہی تو ان ساحلی علاقوں میں رواں سال کپاس کی ریکارڈ کاشت کا امکان ہے۔ دوسری جانب کراپ رپورٹنگ سروسز پنجاب کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ صوبے میں اس سال کپاس کی پیداوار 37 لاکھ گانٹھوں تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم ماہرین پیداوار کے حوالے سے محتاط انداز اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔

دریں اثنا کپاس پر تحقیق کرنے والے دو بڑے قومی اداروں یعنی سینٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ اور پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل نے کپاس کی نئی اقسام پر مشترکہ تحقیق اور باہمی تکنیکی تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بہتر بیج کی تیاری اور فصل کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران درجہ حرارت اور اس کے دورانیے میں غیر معمولی تبدیلیوں نے فصلوں پر انتہائی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس کے نتیجے میں فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی، جبکہ فصلوں اور پھلوں کا معیار بھی متاثر ہوا، جس سے کسانوں کی آمدنی اور مقامی زرعی معیشت دونوں کو نقصان پہنچا۔

انہوں نے بتایا کہ قیام پاکستان سے لے کر گزشتہ سال تک ملک میں کپاس کی کاشت کے دو بڑے زون رہے ہیں۔ سندھ کے ساحلی شہروں سے ملحقہ اضلاع میں عام طور پر کاشت فروری اور مارچ میں کی جاتی تھی، جبکہ دیگر کاٹن زون میں یہ عمل یکم مئی سے جون کے پہلے ہفتے تک جاری رہتا تھا۔ تاہم درجہ حرارت میں غیر متوقع تبدیلیوں کے باعث اب سندھ کے ساحلی علاقوں اور پنجاب کے چند حصوں میں کاشت فروری جبکہ باقی اضلاع میں اپریل اور مئی میں ہونے لگی ہے۔

ماہرین اس صورتحال کو موسمیاتی تبدیلیوں کا براہ راست اثر قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ زرعی پالیسی سازی میں ان تبدیلیوں کو مدنظر رکھنا ناگزیر ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کاشت کے اوقات میں تبدیلی فصل کی دیکھ بھال، آبپاشی اور کیڑے مار ادویات کے استعمال کے شیڈول کو بھی متاثر کرتی ہے، اس لیے Research اداروں اور کسانوں کے درمیان قریبی رابطہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اب تک کی کہانی سندھ

  1. حافظ نعیم الرحمن کا کراچی میں ترقیاتی کاموں کا دعویٰ اور حکومت پر تنقید
  2. سندھ حکومت کا صنعتی یونٹس میں بجلی کی تنصیبات کی سالانہ جانچ کا فیصلہ، صنعتکاروں کا احتجاج
  3. سندھ حکومت کا تھرپارکر کو آفت زدہ ضلع قرار دینے کا فیصلہ، 90 فیصد فصلیں تباہ
  4. وادی سندھ کی تاریخ پر 15ویں عالمی تھاپ کانفرنس لاہور میں شروع
پوری ٹائم لائن دیکھیں →
سندھسینٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹاحسان الحقپاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسلسجاولٹھٹھہ

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں