ہفتہ, 26 ستمبر 2026
around.pk

پاکستان و دنیا کی خبریں

کاروبار

اسلام آباد میں نیشنل فیس لیس سینٹر کا قیام، ٹیکس نظام میں بڑی تبدیلی

اسلام آباد میں نیشنل فیس لیس سینٹر قائم کر دیا گیا ہے، جس سے ٹیکس گزار اور ٹیکس افسر کا براہ راست رابطہ ختم ہو جائے گا۔

26 ستمبر 2026, 10:25 صبح

ایف بی آر نے اسلام آباد میں نیشنل فیس لیس سینٹر قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے جس کا مقصد ٹیکس گزار اور ٹیکس افسر کے درمیان براہ راست رابطہ ختم کرنا ہے۔ اس سینٹر کے قیام سے ٹیکس آڈٹ اور اسسمنٹ کا نظام تبدیل کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایف بی آر کی بورڈ ان کونسل نے اس سینٹر کی منظوری دی ہے۔ نئے نظام کے تحت اگر کسی ٹیکس دہندہ کا گوشوارہ آڈٹ کے لیے منتخب ہو، تو اس کا انتخاب کسی افسر کی بجائے کمپیوٹرائزڈ رسک پر مبنی نظام کے تحت کیا جائے گا اور کیس خودکار طریقے سے ملک میں کسی بھی افسر کو تفویض کیا جائے گا۔

اس نئے نظام میں ٹیکس دہندہ کو معلوم نہیں ہوگا کہ اس کا کیس کس افسر کے پاس ہے اور افسر کو بھی اختیار نہیں ہوگا کہ کون سا کیس اس کے پاس آئے۔ ہر کیس تین الگ الگ مراحل سے گزرے گا: آڈٹ، اسسمنٹ اور کوالٹی کنٹرول۔ تین مختلف افسران اس عمل میں شامل ہوں گے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔

کسی ایک افسر کو دعوے پر مکمل اختیار نہیں ہوگا، جبکہ تمام نوٹس، جوابات اور سماعتیں ایف بی آر کے نظام آئی آر آئی ایس کے ذریعے الیکٹرانک انداز میں ہوں گی۔ صرف وہاں جہاں قانون کے مطابق تصدیق یا وصولی ضروری ہو، فیلڈ ٹیم یہ ذمہ داری نبھائے گی۔

نیشنل فیس لیس سینٹر کو قانونی حیثیت فنانس ایکٹ 2026 سے ملی ہے اور اس کی سربراہی چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو کے پاس ہوگی۔ سینٹر میں آڈٹ، اسسمنٹ، کوالٹی کنٹرول اور فیلڈ آپریشنز کے علیحدہ شعبے قائم کیے گئے ہیں، جبکہ پروگرام مینجمنٹ یونٹ نفاذ کی نگرانی کر رہا ہے۔

ایف بی آر کے مطابق اس اقدام کا مقصد ہر ٹیکس دہندہ کے لیے یکساں قواعد، ڈیٹا کی بنیاد پر فیصلے اور افسر سے براہ راست رابطے کا خاتمہ ہے۔ ادارے نے توقع ظاہر کی ہے کہ نیشنل فیس لیس سینٹر سے ملک بھر کے ٹیکس دہندگان کے لیے کارروائی تیز، منصفانہ اور شفاف ہو جائے گی۔

اسی زمرے سے