ایف بی آر نے سیلز ٹیکس ریٹرنز کی الیکٹرانک جانچ کے لیے نیا نظام نافذ کر دیا
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے سیلز ٹیکس ریٹرنز کی الیکٹرانک جانچ پڑتال اور خودکار تجزیے کے لیے کمپیوٹرائزڈ نظام متعارف کرا دیا۔
26 ستمبر 2026, 10:25 صبح
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سیلز ٹیکس ریٹرنز کی الیکٹرانک جانچ پڑتال کے لیے ایک نیا کمپیوٹرائزڈ طریقہ کار متعارف کرایا ہے۔ اس نظام کے تحت سیلز ٹیکس ریٹرنز اور دستیاب دیگر ڈیٹا کی خودکار جانچ پڑتال، تجزیے اور کراس میچنگ کی جائے گی۔
حکام کے مطابق، نئے نظام میں کمپیوٹرائزڈ ذرائع سے سامنے آنے والے حقائق اور تضادات کی نشاندہی رجسٹرڈ افراد کو آن لائن ایڈوائس یا اطلاع کی صورت میں کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے آئی آر آئی ایس سسٹم کو استعمال کیا جائے گا، تاکہ رجسٹرڈ افراد قانونی کارروائی سے پہلے اپنی وضاحت، غلطیوں کی اصلاح یا تدارک پیش کر سکیں۔
ایف بی آر نے سیلز ٹیکس رولز 2006 میں ترامیم کرتے ہوئے اس نظام کو متعارف کرایا ہے۔ ترامیم کے مطابق، متعلقہ افسر ان لینڈ ریونیو سسٹم کے ذریعے پیدا ہونے والی پیشگی اطلاع رجسٹرڈ شخص کو ارسال کریں گے۔ جواب دینے کے لیے کم از کم سات دن کی مہلت دی جائے گی، اور وقت پر جواب نہ آنے کی صورت میں مزید سات دن کی رعایت کے ساتھ یاد دہانی بھیجی جائے گی۔
کمپیوٹرائزڈ نظام سے ظاہر ہونے والے مسائل، بھیجی گئی اطلاعات اور موصول ہونے والے جوابات کا ریکارڈ متعلقہ افسران کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔ ایف بی آر کے مطابق، ڈیش بورڈ پر بھی وہ تمام کارروائیاں محفوظ رہیں گی جو نظام کے تحت انجام دی جائیں گی۔
اس طریقہ کار کے نفاذ کے لیے چینج ریکوئسٹ فارم (سی آر ایف) کا استعمال کیا جائے گا، اور اگر ضرورت پیش آئی تو سیلز ٹیکس ایکٹ اور اس کے قواعد کے مطابق کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکے گی۔
اسی زمرے سے
آئی ایم ایف مشن نے اسٹیٹ بینک کی معاشی بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کیا
3 گھنٹے قبل
اسلام آباد میں نیشنل فیس لیس سینٹر کا قیام، ٹیکس نظام میں بڑی تبدیلی
3 گھنٹے قبل
حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ اور ڈیزل کی قیمت میں کمی کر دی
19 گھنٹے قبل
ستمبر کے تیسرے ہفتے ملک میں مہنگائی میں اضافہ جاری
1 دن قبل