اسلام آباد میں احتجاج اور دھرنوں پر مستقل پابندی لگانے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں مستقبل میں کسی بھی سیاسی جماعت کو احتجاج یا دھرنا دینے سے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔
26 ستمبر 2026, 5:07 صبح
وفاقی حکومت نے اسلام آباد کو احتجاجی دھرنوں سے پاک رکھنے کے لیے سخت پالیسی اختیار کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ اب کسی بھی سیاسی گروہ کو وفاقی دارالحکومت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور، رانا ثنا اللہ نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں احتجاج کے تماشے کو ہمیشہ کے لیے بند کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔
رانا ثنا اللہ نے تحریک انصاف کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر طاقت کا استعمال کیا گیا تو نو مئی کے بعد دی گئیں سہولتیں فوراً ختم کر دی جائیں گی۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات، عطا اللہ تارڑ نے تحریک انصاف کی جانب سے لانگ مارچ معطل کرنے کے فیصلے کو بزدلی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اب تحریک انصاف دھرنوں اور احتجاج سے پیچھے ہٹ رہی ہے اور اگر ان میں ہمت ہے تو لانگ مارچ کر کے دکھائیں کیونکہ اس دفعہ ان کا یہ عمل نہیں چلے گا۔
عطا اللہ تارڑ نے الزام لگایا کہ خیبر پختونخوا حکومت کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کی معاونت کر رہی ہے اور صوبائی وزیر اعلیٰ کا کردار ایک سیاسی رہنما سے زیادہ ممنوعہ جماعت کے کمانڈر جیسا ہے، جو غیر قانونی کان کنی کے ذریعے دہشت گردوں کو مالی امداد فراہم کر رہے ہیں۔
اسی زمرے سے
ڈیرہ بگٹی: ضلع کونسل چیئرمین کے گھر حملہ، جوابی کارروائی میں 13 حملہ آور ہلاک
3 گھنٹے قبل
ڈی آئی خان میں خودکش دھماکہ، 12 افراد شہید، 30 زخمی
4 گھنٹے قبل
خطے کی ترقی کیلئے افغان سرزمین سے دہشتگردی کے خاتمے کی ضرورت ہے: اسحاق ڈار
12 گھنٹے قبل
کراچی: منگھوپیر اور سائٹ سپر ہائی وے میں مبینہ پولیس مقابلے، تین ملزمان زخمی حالت میں گرفتار
19 گھنٹے قبل